پیرس حملے: ’خوشگوار‘ ماحول میں بچپن گزرانے والے نوجوان جرائم کی دنیا میں کیسے داخل ہوئے؟

    • مصنف, ہیو سکوفیلڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، پیرس

آج سے ٹھیک 22 برس قبل یعنی 13 نومبر 2015 کو پیرس میں دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم 130 افراد ہلاک جبکہ لگ بھگ 350 افراد زخمی ہوئے۔ بی بی سی نے یہ رپورٹ 2021 میں شائع کی تھی جس میں ان شدت پسندوں کی زندگیوں کا احاطہ کیا گیا تھا جو ان حملوں میں ملوث تھے۔ اس رپورٹ کو آج کے دن کی مناسبت سے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

اُن کا بچپن تیونس، برسلز یا مالمو میں ایک خوشگوار ماحول میں گزرا تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے گرد پلے بڑھے، ان کے والدین محنتی تھے اور انھیں دنیا کی ساری خوشیاں دینا چاہتے تھے۔

پیرس حملوں کے طویل عرصے سے جاری مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ کیسے 14 عام مردوں کی زندگیاں چھوٹی موٹی نوکریوں اور چوٹھے چھوٹے جرائم میں گِھر گئیں۔ کچھ جنگ کے لیے شام چلے گئے اور پھر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا حصہ بن کر مغربی پورپ آ گئے۔

یہ کہانی 13 نومبر 2015 کو 130 لوگوں کے قتل کے ساتھ ختم ہوئی۔

اس کہانی میں ایک اہم مقام برسلز کا مولنبیک نامی علاقہ ہے۔ خاص طور پر وہاں موجود لیز بیگوئنز کیفے جو براحم عبد السلام چلاتے تھے۔

براحم عبد السلام نومبر 2015 میں پیرس کیفے پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ وہ صالح عبدالسلام کے بھائی بھی ہیں جو پیرس حملوں میں 10ویں ملزم ہیں اور شاید ملزمان میں سب سے زیادہ معروف ہیں۔

اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے 32 سال کے صالح عبد السلام نے جو تصویر پیش کی وہ اس سے کافی مختلف ہے جو عدالت میں ان کے بارے میں پیش کی گئی تھی جس کے مطابق وہ ایک جارحانہ حد تک ندامت سے خالی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی باتوں پر عدالت میں ایک دو مرتبہ ہلکی سی ہنسی بھی سنائی دی گئی۔

برسلز میں پیدا ہونے والے، مراکشی والدین کے ان بچوں کی شہریت فرانسیسی تھی۔ انھوں نے خود کو ایک خاموش اچھے انسان کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ وہ اساتذہ میں مقبول تھے اور کچھ مضامین میں اچھے تھے ‘میں پڑھائی میں محنت کرتا تھا۔ میں پوری کوشش کرتا تھا۔ میں پرعزم تھا۔‘

انھوں نے الیکٹرکل مکینکس میں ڈپلومہ لیا اور اپنے والد کی طرح برسلز ٹریم کمپنی میں کام شروع کر دیا۔ ڈیڑھ سال بعد انھیں کام سے نکال دیا گیا۔

جج نے پوچھا آپ کو نوکری سے کیوں نکالا گیا۔ انھوں نے جواب دیا ‘کیونکہ میں جیل میں تھا۔‘

سنہ 2010 کے اختتام پر عبد السلام نے عبد الحامد عباد کے ساتھ مل کر ایک ناکام ڈاکے کی کوشش کی تھی۔ یہی عبد الحامد عباد پیرس حملوں میں رنگ لیڈر بنے۔

صالح عبدالسلام نے عدالت کو بتایا کہ ’میں بیلجیئم میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑا۔ میں ایک سرکاری سکول میں گیا۔ میں ویسے ہی رہتا تھا جیسا مجھے مغرب میں رہنا سیکھایا گیا تھا۔ ہر کسی کی طرح میں شادی کرنا چاہتا تھا، بچے چاہتا تھا مگر یہ سب میں نے سائڈ پر رکھ دیا اور خود میں ایک پروجیکٹ کے ذریعے انویسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

جج نے پوچھا کون سا پروجیکٹ؟ جواب آیا جن چیزوں کا مجھ پر آج الزام ہے۔

اسی کیفے میں بار بار آیا کرتے تھے 36 سال کے محمد ابرینی۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ان حملوں سے قبل برسلز سے پیرس جہادیوں کو لے کر آئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ محمد ابرینی ہی وہ شخص ہیں جو مارچ 2016 میں برسلز ایئرپورٹ پر خودکش حملہ کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور ان کی تصویر ‘مین ان ہیٹ‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔

وہ مراکش کے بلڈر کے سات بچوں میں سے ایک تھے جو کہ ایک اچھی اجرت کماتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نہ غریب تھے نہ امیر۔ ان پر پہلی فرد جرم 17 برس کی عمر میں چھ کاروں کی چوری پر عائد کی گئی تھی۔

پھر اس کے بعد انھوں نے معمولی نوکریاں کیں لیکن وہ جوا بازی بھی کرتے تھے۔ ان کا شادی کا پلان تھا لیکن جب ان کے بھائی کی شام میں موت ہو گئی تو انھوں نے وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا۔

جج نے ان سے پوچھا کیا آپ کی خواہش تھی کہ آپ اپنے والدین کی جانب سے دیے گئے پیار اور حوصلہ افزائی کا بدلہ دے سکیں۔

جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ فطری طور پر مایوس ہوئے تھے۔ ’میں اپنے والد کو فخر دینا چاہتا تھا، ہمارے ماں باپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم اپنی زندگی میں کامیاب ہوں وہ سب کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ میرے ہمسایوں نے مجھے گھسیٹا۔ ‘

اگر آپ ان کو شامل کریں جو ناکام ہو گئے اور وہ جو کامیاب ہو گئے۔ تو یہ 80 کے مقابلے میں 20 ہوں گے۔ میں ان میں سے ایک ہوں جو زندگی میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

حمزہ عطا جن کی عمر 27 سال ہے وہ بھی لیز بیگوئنز کیفے بہت آتے جاتے تھے۔

یہ بیلجئیم نژاد مراکشی والدین کے چھ بچوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میرا بچپن اچھا تھا لیکن سکول چھوڑنے کے بعد میں بھنگ کے استعمال کا عادی ہو گیا۔ اس کے لیے پیسے حاصل کرنے کے لیے اس نے ڈیل شروع کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اسی طرح زندگی گزاری۔ میں نے بھنگ بیچی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک جرم ہے۔ مجھے اس پر فخر نہیں لیکن میں خود کو لوگوں کو لوٹتے یا ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔‘

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے برسلز میں صالح عبدالسلام کو حملوں کی رات کو پِک کیا تھا۔

جج نے ان سے پوچھا کیا آپ دیکھتے نہیں کہ آپ جیل بھی جا سکتے تھے۔

ان کا جواب تھا کہ میری زندگی میں اکثر میں نے عمل کیا اور پھر ردعمل کیا۔ اس طرح میں وہاں پہنچا جہاں میں ابھی ہوں۔

بیلجئیم کے ایک اور شہری جن کا تعلق مراکش سے ملتا ہے کا نام محمد بقلی اور عمر 34 برس ہے۔ وہ چھ بہن بھائی تھے ایک اچھے گھر میں پلے بڑھے جس میں ایک باغ بھی تھا۔

یہ ایک مشرقہ نظام تھا وہ بتاتے ہیں کہ ’میں مقامی کلب کے لیے فٹ بال کھیلتا تھا اور میونسپل لائبریری جاتا تھا میں بہت پڑھنے والا تھا۔‘

سکول چھوزے کے بعد وہ اپنے والد کے ہمراہ ایک گیراج میں کام کرنے لگے۔ وہ بتانے لگے کہ تب میں نے کسٹمرز سے بات کرنے کے لیے عربی زبان سیکھنی شروع کی۔

محمد بقلی نے بتایا کہ انھوں نے جعلی سامان کا کاروبار شروع کر دیا، جن میں کپڑے، ٹرینر، گھڑیاں، پرفیوم وغیرہ شامل تھے۔

بقلی پر الزام ہے کہ انھوں نے لاجسٹکس کے لیے حملوں میں مدد فراہم کی۔ سنہ 2015 میں ہونے والے تھالیس حملے میں اسی قسم کے کردار ادا کرنے کے جرم میں وہ جیل کاٹ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جیل میں انھیں دیگر قیدیوں کی مانند الگ رکھا گیا تھا تو انھوں نے اپنی تعلیم دوبارہ سے شروع کی۔

بہت سے مبینہ ملزمان کی قومیت فرانسیسی یا بیلجئین ہے۔ چار سویڈن، تیونیسیا، الجیریا اور پاکستان میں پلے بڑھے۔ وہ شام میں نام نہاد شدت پسند تنظئم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے گئے تھے اور پھر انھوں نے سنہ 2015 میں یورپ عبور کیا۔

اسامہ کریم مالمو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شامی اور والدہ فلسطینی تھیں۔

بارہ برس کی عمر میں وہ سویڈن میں ایک ٹی وی ڈاکیومنٹری میں فٹ بال کھیلتے ہوئے بطور کامیاب تارکین وطن کے دیکھے گئے۔

جج نے ان سے پوچھا تو کیا آپ یہاں انضمام کی مثال ہو۔ تو انھوں نے جواب دیا ممکنہ طور پر۔

پھر ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ آپ اس وقت محسوس کرتے تھے کہ آپ اچھی طرح گھل مل گئے تھے۔

اس بار عثمان نے کہا نہیں۔ ’میں ایسی جگہ پر رہتا تھا جہاں اردگرد کوئی ایک بھی سویڈش موجود نہیں تھا۔

پاکستان کے عثمان محمد نے اپنے بچپن میں ہی اپنے والد کو کھو دیا تھا۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتانے لگے کہ وہ والد کے ساتھ کرکٹ سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے والد نے کتنے برس کھیتوں میں کام کرنے میں لگائے اور کتنے مدرسے میں پڑھتے ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کس عمر میں اپنی تعلیم کاحصول روک دیا۔ ہم سالگرہ نہیں مناتے۔

یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ ان کی عمر کوئی نہیں بتا سکتا۔

یونان میں جب انھیں گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس سے برآمد ہونے والی جعلی دستاویزات کے مطابق ان کی پیدائش 1981 میں ہوئی تھی لیکن پاکستانی پولیس کی جانب سے ان کا جو شناختی کارڈ بھجوایا گیا، اس کے مطابق ان کی پیدائش سنہ 1993 میں ہوئی تھی۔

جج نے کہا کہ وہ 28 سال کی عمر میں بہت زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی عمر کے مطابق نہیں لگتا۔ یہ تنہائی کی وجہ سے ہے۔

ملزم کو کیا مذہبی طور پر کوئی تحریک ملی تھی اس کے بارے میں نہیں جانچا گیا نہ ہی اور نہ ہی وہ اقدامات کیے گئے جو انہیں اس مقام پر لے آئے جہاں وہ ہیں۔

ان سب کے لیے مقدمے کے ایک اور باب کا انتظار کرنا چاہیے۔