یوکرین: خواتین فوجیوں کو بوٹوں کے بجائے ہیلز میں مارچ کروانے کے فیصلے پر اتنا غصہ کیوں؟

یوکرین کی وزارت دفاع کی جانب سے اگلے مہینے ہونے والی پریڈ میں خواتین فوجیوں کو بوٹوں کے بجائے اونچی ہیل میں مارچ کروانے کے فیصلے پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

پارلیمنٹ کی حزب اختلاف کی رکن، ایرینا گیراشینکو نے کہا کہ یہ مساوات نہیں، جنسی تعصب ہے۔

یوکرین 24 اگست کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آزادی کے 30 سال پورے ہونے کے لیے فوجی پریڈ کی تیاری کر رہا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ جوتے فوجی خواتین کی وردی کا حصہ ہیں۔

یوکرین میں بہت سے لوگوں نے اس فیصلے پر صدمے کا اظہار کیا ہے، حتیٰ کہ قانون سازوں کے ایک گروپ نے وزیر دفاع آندرے ترن سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کمنٹیٹر ویتلی پورٹنکوف نے فیس بک پر لکھا ’ہیلز میں پریڈ کروانے کا فیصلہ بہت شرمناک ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ کچھ افسران کی ذہنیت ابھی تک ’قرون وسطیٰ‘ والی ہے۔

گیراشینکو کا کہنا ہے کہ پہلے تو انھیں لگا کہ خواتین فوجیوں کی فوجی ٹراؤزرز اور بلاک ہیل والی سیاہ پمپس پہنے ریہرسل والی تصویریں اصلی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنسی تعصب ہے، مساوات نہیں۔ انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وزارت نے ایسا کیوں سوچا کہ ہیلز، خواتین کے لیے ان کی حفاظت کی غرض سے ڈیزائن کیے جانے والے مخصوص لباس سے زیادہ اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماریا برلنسکا، جو ایک تجربہ کار فوجی رہی ہیں، نے کہا کہ پریڈ میں فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن اس کا مقصد سینئر افسران کو خوش کرنے کے لیے سلامی پیش کرنا تھا۔

اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی سپیکر اویلینا کونڈراتیوک نے نشاندہی کی کہ مشرق میں حالیہ تنازع کے دوران روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف لڑائی میں یوکرین کی طرف 13،500 سے زیادہ خواتین حصہ لے چکی ہیں۔

اس ملک کی مسلح افواج میں 31000 سے زیادہ خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں، جن میں 4000 سے زیادہ افسر شامل ہیں۔