سی ای ای سی: یورپی یونین کا ایک چھوٹا سا ملک چین کو چیلنج کیوں کر رہا ہے؟

یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک لیتھوینیا نے چین کی زیر قیادت تنظیم سی ای ای سی (چین، وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کے مابین تعاون) سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

28 لاکھ سے کم آبادی والے ملک لیتھوینیا کا یہ فیصلہ چین کو براہ راست چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

2012 میں چین نے یہ فورم تشکیل دیا تھا۔ اسے ’ون پلس سیونٹین‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیتھوینیا نے نہ صرف خود کو اس فورم سے الگ کر لیا ہے بلکہ باقی رکن ممالک سے بھی اس فورم کو چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

لیتھوینیا کے وزیر خارجہ گیبریل لینڈسبرگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لیتھوینیا اب اس فورم کا رکن نہیں ہے اور وہ اس میں شرکت نہیں کرے گا۔‘

انھوں نے اس پلیٹ فارم کو تفریق پھیلانے والی تنظیم کہا۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو چین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ کی طاقت اور اثر و رسوخ اس کے اتحاد میں ہے۔ لیتھوینیا کو سی ای ای سی کے بارے میں پچھلے کئی مہینوں سے شکوک و شبہات تھے۔

بالٹک ٹائمز کے مطابق 2019 میں لیتھوینیا کے محکمہ سکیورٹی اور سیکنڈ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ میں قومی سلامتی کو خطرے کا ذکر کیا تھا کہ ’لیتھوینیا کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے دیگر ممالک میں چین کے معاشی اور سیاسی عزائم میں اضافہ ہو رہا ہے ساتھ ہی چینی انٹیلیجنس اور سکیورٹی سروس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لجیان نے لیتھوینیا سے متعلق سوال کا طویل جواب دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ چین کا یہ تعاون فورم معمولی واقعات سے متاثر نہیں ہوگا۔ لیجیان نے کہا ’چین کا سی ای ای سی علاقائی تعاون کا ایک ایسا نظام ہے جو چین، وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کے مابین تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ دونوں کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کی ہماری خواہش کی علامت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’نو سال بعد چین - سی ای ای سی کے تعاون کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور شریک ممالک کے عوام نے بھی اس سے ٹھوس فوائد حاصل کیے ہیں۔‘

لیجیان نے کہا کہ چین اس نظام کو ہمیشہ چین اور یورپی تعلقات کے مفاد میں دیکھتا ہے اور دوسرے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ اس کے تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے۔

سی ای ای سی کیا ہے؟

چین نے اس فورم کا آغاز سنہ 2012 میں وسطی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے ارادے سے کیا تھا۔

لیتھوینیا کے نکلنے کے بعد اب اس میں البانیہ، بوسنیا اور ہرزیگوینا، بلغاریہ، کروشیا، چیک جمہوریہ، ایسٹونیا، یونان، ہنگری، لیٹویا، شمالی مقدونیہ، مونٹینیگرو، پولینڈ، رومانیہ، سربیا، سلوواکیہ اور سلووینیا شامل ہیں۔

یہ فورم پولینڈ کے شہر وارسا میں سال 2012 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہر سال اس کا سربراہی اجلاس مختلف ممالک میں ہوتا رہا ہے۔ سال 2020 میں کورونا کی وجہ سے اس کا اجلاس نہیں ہو پایا تھا۔

تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے چین کے ایک اور منصوبے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ کو بھی سی ای ای سی سے فروغ دینے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔

سربیا کا ای 763 ہائی وے پراجیکٹ سی ای ای سی کے تحت شروع ہوا۔ اس کے علاوہ بڈاپیسٹ - بلغراد ریلوے اور چین-یورپ لینڈ سی سی ایکسپریس لائن پر بھی اسی کے تحت کام شروع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے رکن ممالک میں بھی متعدد منصوبوں کی تجویز زیر غور ہے۔

چین کی وزارت تجارت کے مطابق 2016 میں چین اور سی ای ای سی کے رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھ کر 58.7 ارب ڈالر ہو گئی تھی۔ جبکہ رکن ممالک میں چین کی سرمایہ کاری آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی تھی۔

چین کا موقف اور لیتھوینیا کا فیصلہ

چین کی وزارت خارجہ نے لیتھوینیا کے معاملے پر اپنی طرف سے کوئی سخت تبصرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’لیتھوینیا امریکی دباؤ میں ہے‘۔

لیتھوینیا کے فیصلے کو چین اور یورپی یونین کے درمیان تلخ ہوتے تعلقات کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ ساتھ لیتھوینیا نے بھی چین میں اویغور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا مسئلہ اٹھایا تھا۔

گذشتہ جمعرات کو یورپی پارلیمان نے چین کے ساتھ یورپی یونین کے سرمایہ کاری کے معاہدے کی توثیق کرنے کے لیے قانون سازی کے عمل کو منجمد کرنے کے لیے اکثریت سے ووٹ دیا۔ یورپی پارلیمان کا کہنا ہے کہ جب تک چین یورپی یونین کے رکن پارلیمان کے خلاف عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا ہے پابندی برقرار رہے گی۔

یورپی یونین نے اویغور مسلمانوں کے معاملے پر سنکیانگ صوبے کے عہدیداروں پر پابندی عائد کر رکھی ہیں۔ اسی کے جواب میں چین نے یورپی یونین کے رکن پارلیمان پر بھی پابندی عائد کی ہے۔

چین نے الزام لگایا ہے کہ تعلقات میں تلخی کا ذمہ دار یورپی یونین ہے۔ جمعے کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’یورپی یونین کو جذباتی ردعمل پر کم اور عقلی سوچ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ یورپی یونین کو اپنے مفاد میں صحیح فیصلہ لینا چاہیے۔‘

چین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے یورپین سٹڈیز شعبے کے ڈائریکٹر کوئی ہانگجیان نے گلوبل ٹائمز کو بتایا ’لیتھوینیا کو سیاست اور سلامتی کے مسئلے پر سوویت یونین اور آج کے روس کے بارے میں کچھ خدشات ہیں۔ لہذا جب چین اور روس سٹریٹیجک طریقے سے ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں ایسے میں لیتھوینیا کچھ خدشات کے سبب چین سے فاصلہ بنا رہا ہے۔‘

’لیکن لیتھوینیا اس فورم کا رکن ہونے کے باوجود چین کے بارے میں بہت سے فیصلے کرتا رہا ہے جس پر چین نے سخت اعتراضات کیے تھے۔‘

حال ہی میں لیتھوینیا کی پارلیمان نے چین سے متعلق ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چین میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک انسانیت سوز، نسل کشی اور جرم کے زمرے میں آتا ہے‘۔

صرف یہی نہیں تائیوان سے متعلق لیتھوینیا کے فیصلے کی وجہ سے چین کی وزارت خارجہ نے سخت اعتراض کیا تھا۔

لیتھوینیا نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ وہ تائیوان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے وہاں تجارتی نمائندے کا دفتر کھولے گا۔ چین ’ون چائنا‘ پالیسی کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ مانتا ہے اور وہ کسی بھی ملک کی تائیوان کے ساتھ براہ راست تجارتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کو پسند نہیں کرتا ہے۔