آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جو بائیڈن: امریکہ کے نومنتخب صدر کی نئی خارجہ پالیسی ٹیم میں کون ہے اور ان کی اولین ترجیح کیا ہوگی؟
نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی خارجہ پالیسی کی ٹیم میں تین ایسے لوگوں کو تعینات کیا ہے جن کے پاس وائٹ ہاؤس کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے۔ لیکن امریکی حکومت کے لیے اتنے سال کام کرنے کی وجہ سے وہ لوگوں کی جانب سے اپنے اوپر کی جانے والی تنقید بھی ساتھ لائیں گے۔
بی بی سی نے بائیڈن کی ٹیم کو دیکھتے ہوئے ان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے اور اس حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین سے بات کی ہے۔
یہ کون لوگ ہیں؟
نئی خارجہ پالیسی ٹیم میں ان تین لوگوں کو شاید واشنگٹن سے باہر زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں۔
انٹونی بلینکن، لِنڈا تھومس گرین فلیڈ اور جیک سلیوان وائٹ ہاؤس میں اوباما انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انھیں بائیڈن کے قابل اعتماد لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے اور خیال ہے کہ وہ خارجہ امور پر اعتدال پسند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
58 سالہ بلینکن بائیڈن کے ساتھ تقریباً گذشتہ 20 سال سے کام کر رہے ہیں۔ انھیں امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ یعنی وزیر خارجہ کا عہدہ دیا جائے گا۔
لِنڈا کئی سالوں سے سیاہ فام امریکیوں کے مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انھیں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بنایا جائے گا۔
جیک دفتر خارجہ کے ایک سابق اہلکار ہیں۔ وہ ہیلری کلنٹن کے سابق مشیر تھے جنھوں نے 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جب بائیڈن نائب صدر تھے تو وہ ان کے قومی سلامتی کے مشیر تھے۔
’اندر کے لوگ‘
بلینکن بائیڈن کے ساتھ اس وقت سے کام کر رہے ہیں جب وہ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کا حصہ تھے۔ بعض ناقدین کے خیال میں انھوں نے بائیڈن کو مشورہ دیا کہ 2003 میں عراق میں مداخلت کے حق میں ووٹ دیں۔
کچھ سابق امریکی سفارتکار کہتے ہیں اس ٹیم کو بائیڈن سے ذاتی تعلق کا فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اس کا مطلب ہوگا کہ تمام لوگوں کی رائے ایک جیسی ہوگی۔
واشنگٹن میں خارجہ پالیسی بنانے میں ان افراد کے تجربے کے باوجود شاید یہ تمام لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ نہ ہوسکیں۔ اس سے شاید وہ جنگ رک جائے جسے ٹرمپ ’ڈیپ سٹیٹ‘ کے خلاف جنگ کہتے ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ سے ٹرمپ کی مراد حکومت میں مبینہ طور پر وہ لوگ تھے جو اُن کے اپنے ایجنڈے کے خلاف مصروفِ عمل تھے۔
امریکہ میں وزیر خارجہ کے ایک نائب معاون پی جے کراؤلی کے مطابق ان افراد کو ایک ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے اور کسی بیرونی مسئلے کا جائزہ لینے کے دوران ان کے وہ خیالات کام آئیں گے جو انھوں نے عالمی تنازعات سے نمٹنے کے دوران سیکھے تھے۔ یہ لوگ کسی ڈیپ سٹیٹ کے ممبران نہیں بلکہ امریکی اقدار اور مفادات کے مطابق فیصلہ سازی میں مدد کریں گے۔ یہ لوگ عملیت پسند ہیں، نظریاتی نہیں۔
امریکہ میں کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار رسپانسیبل سٹیٹ کرافٹ کے صدر اینڈریو بیکوچ کہتے ہیں کہ ان تعیناتیوں سے ایک بات واضح ہے کہ واشنگٹن میں حالات بحال ہوسکتے ہیں اور پالیسی میں بظاہر افراتفری کا دور ختم ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ بحالی کافی ہے؟ یہ ٹیم امریکی برتری پر یقین رکھتی ہے جس سے ممکن ہے کہ امریکی فوجی قوت کا استعمال بڑھ جائے۔
وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے سابق رکن چارلس کیپچن کہتے ہیں کہ لِنڈا دفترِ خارجہ کی سابق اہلکار ہیں اور اسی ’ڈیپ سٹیٹ‘ کی نمائندگی کرتی ہیں جس کا ذکر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک دفتر خارجہ کے یہی اہلکار آزاد خیالی کے ساتھ بین الاقوامی امور پر خود بری فوجیوں کا کردار ادار کرتے تھے جبکہ ٹرمپ اسے ختم کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے شاید ٹرمپ کے دور میں دفتر خارجہ کا حوصلہ پست ہوا۔
عالمی اتحاد
بائیڈن کی ٹیم ترجیحی بنیادوں پر عالمی اداروں، اتحاد اور معاہدوں میں واپس شمولیت اختیار کرے گی جن سے ٹرمپ نے اپنے چار سالہ دور کے دوران امریکہ کو علیحدہ کیا۔
ان سے کہا جائے گا کہ امریکہ کو دوبارہ پیرس معاہدے اور عالمی ادارہ صحت کا حصہ بنائیں۔ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدہ بھی کرنا چاہیں گے، نیٹو کے اتحاد کو مضبوط بنانا چاہیں گے اور ایسے تجارتی معاہدے کرنا چاہیں گے جن سے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکا جاسکے۔
اینڈریو بیکوچ کے مطابق ٹرمپ اس لیے منتخب ہوئے تھے کیونکہ بڑی تعداد میں امریکی سمجھتے تھے کہ امریکی خارجہ پالیسی ناکام ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ان تجربہ کار لوگوں نے سیکھا ہے کہ اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے جیسے فوجی بجٹ میں کٹوتی اور افواج کے استعمال میں احتیاط۔
پی جے کراؤلی کے مطابق ٹرمپ نے کبھی بھی قومی سلامتی کی ٹیم نہیں بنائی۔ انھوں نے تنہا یہ کام کیا اور اپنے ساتھ آزاد لوگوں کو شامل کیا جنھیں وہ ٹویٹ پر تعینات یا برخاست کر سکتے تھے۔ ان تینوں اہلکاروں نے دفتر خارجہ میں کام کیا ہے اور ان کے آنے سے عالمی وبا، ماحولیاتی تبدیلی یا چین کے ساتھ تنازع جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سفارتی تعلقات اور تعاون کی اہمیت بڑھ جائے گی۔
خارجہ امور کے ماہر سٹیورٹ پیٹرک کے مطابق بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ عالمی اتحادیوں کو یقین دلایا جاسکے کہ امریکی قوت واپس آگئی ہے، جیسے نومنتخب صدر نے کہا کہ 'امریکہ از بیک۔' گذشتہ چار سالوں میں خارجہ پالیسی میں یہ دوسری بڑی تبدیلی ہوگی۔ آنے والی انتظامیہ چاہے گی کہ گذشتہ سات دہائیوں میں امریکہ نے جن بیرونی قوتوں پر انحصار کیا ان سے تعلقات بحال کیے جاسکیں۔
تجربہ کار ماہرین کی واپسی؟
ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے میں بائیڈن نے زیادہ تجربہ کار لوگوں کو ان عہدے پر لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے ٹرمپ نے ریکس ٹیلرسن کو پہلا وزیر خارجہ لگایا تھا جو ایگزون موبل کے سابق ایگزیکٹو تھے۔
دفتر خارجہ کے ساتھ ٹرمپ کے تجربے کو اتنی آسانی سے اور جلدی مٹایا نہیں جاسکتا۔ کئی سینیئر سفارتکاروں نے ٹیلرسن اور ان کے جانشین مائیک پوپمیو کے آنے پر جلد ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔
چارلس کیپچن کہتے ہیں کہ فارن سروس کی بیوروکریسی کا خیال ہے کہ انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عموماً پالیسی نیچے سے اوپر آتی ہے، اس پر کئی ایجنسیاں نظر ثانی کرتی ہیں اور اس کے بعد اس پالیسی کو صدر کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کے دور میں ایسا نہیں ہوا۔
پی جے کراؤلی کے مطابق ان تمام نئے افراد کے خیالات ایک جیسے ہیں۔ وہ امریکی قیادت اور عالمی اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔ تینوں نے دفتر خارجہ میں کام کیا ہے اور ان کے آنے سے بین الاقوامی سفارتکاری اور تعاون پر اعتماد بڑھ جائے گا تاکہ عالمی وبا اور چین کے ساتھ تجارتی تنازع جیسے مسائل حل ہوسکیں۔
(ٹارا میکلیوے اور میکس ماٹزا نے اس خبر میں رپورٹنگ کے فرائض سرانجام دیے ہیں۔)