پروفیسر سُو بلیک: سائنسدان جس نے سیریل قاتل کے کیس کو حل کرنے کے لیے دو انسانی سروں کو اٹلی سے سکاٹ لینڈ پہنچایا

فرانزک سائنسدان پروفیسر سُو بلیک نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ایک بار وہ دو انسانی سروں کو ڈیزائنر بیگ میں رکھ کر اٹلی سے سکاٹ لینڈ لے کر گئی تھیں۔

انھوں نے یہ سفر ہوائی جہاز سے کیا تھا۔

سنہ 1990 کی دہائی کے وسط میں ایک سیریل قاتل پر جاری تحقیق کے سلسلے میں پروفیسر بلیک سے اطالوی پولیس کی مدد کرنے کو کہا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے طیارے پر موجود ایئر ہوسٹس کو بتایا کہ وہ ان بیگز میں کیا لے جا رہی ہیں تو انھوں نے 'انتہائی خوف' کے عالم میں انھیں بزنس کلاس میں منتقل کر دیا۔

پروفیسر بلیک نے بی بی سی کے ’بِگ سکاٹش بُک کلب‘ پروگرام کے ساتھ یہ کہانی شیئر کی۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے پروگرام کی میزبان ڈیمین بار کو بتایا کہ انھیں ان دو سروں (کھوپڑیوں) کو سکاٹ لینڈ لے جانے کے لیے کہا گیا تھا تاکہ ان کے مطابق چہرے کے خدوخال (فیشیل سپراِمپوزیشن) تیار کیے جا سکیں۔ اس طریقے کے تحت کسی تصویر کو اس کی کھوپڑی سے ملایا جاتا ہے۔ اس وقت یہ تکنیک اٹلی میں موجود نہیں تھی۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ ان کھوپڑیوں کی نقل و حمل میں بڑا چیلنج یہ تھا کہ جو باقیات وہ لے جا رہی تھیں وہ سڑنے گلنے کی حالت تک پہنچ چکی تھیں۔

'طاعون کا شکار'

انھوں نے بتایا کہ پھر 'فیصلہ کیا گیا کہ ان سروں کو ایسی سفید بالٹیوں میں رکھا جائے جنھیں سیل کیا جا سکے۔

'اور تاکہ ہوائی اڈے پر کسی کو پریشانی نہ ہو میں نے (بالٹیوں کو) دو انتہائی مہنگے ڈیزائنر کریئر بیگز میں لے کر سفر کیا تاکہ وہ کسی پر ظاہر نہ ہوں۔'

پروفیسر بلیک کو انگریزی اور اطالوی زبان میں دو خطوط دیے گئے تھے جس میں اس بات کی وضاحت تھی کہ وہ کیا لے جا رہی ہیں اور کیوں لے جا رہی ہیں۔

پروفیسر بلیک نے بتایا 'جب میں نے انھیں (ایئر ہوسٹس) کو انگریزی والا خط دیا تو وہ بہت زیادہ ڈر گئیں اور مجھے بزنس کلاس میں منتقل کر دیا جو میرے خیال سے بہتر تھا۔

'لیکن یہ ایسا ہی تھا جیسے انھوں نے میرے چاروں طرف تار لگا دی ہو کیونکہ انھوں نے پرواز کے دوران مجھے اس طرح مکمل طور پر نظرانداز کیا جیسے کہ میں طاعون کا شکار تھی۔'

پروفیسر بلیک نے بتایا کہ ہیتھرو ہوائی اڈے پر جب ایک سکیورٹی گارڈ نے انھیں بیگز کو کھولنے کے لیے کہا تو انھوں نے انھیں تفصیل بتائی کہ اگر بیگ کھولا گیا تو انھیں کیا ملے گا۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ قدرے مرجھا گیا اور کہا 'نہ، آپ جا سکتی ہیں۔'

اس کے بعد ہیتھرو سے گلاسگو جانے والی پرواز میں جب انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس کیا ہے تو انھیں سب سے پیچھے بٹھا دیا گیا اور باقی لوگوں کو بزنس کلاس میں منتقل کر دیا گیا۔

بالآخر جیانفرینکو اسٹیوینن کو اٹلی میں سنہ 1993 سے 1994 کے درمیان چھ خواتین کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی۔

فرانزک سائنسدان پروفیسر ڈیم سُو بلیک اس پروگرام میں اپنی دوسری خود نوشت 'ریٹن ان بون' یعنی „ہڈی میں کندہ‘ کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔ یہ کتاب ان کی سنہ 2018 میں شائع ہونے والی کتاب 'آل دیٹ ریمینز' یعنی ’جو کچھ باقی رہ جاتا ہے‘ کی اگلی کڑی ہے۔