نیوزی لینڈ: جاسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔
نیوزی لینڈ میں عام انتخابات سنیچر 17 اکتوبر کو ہوئے۔ یہ انتخابات پہلے ستمبر میں ہونا تھے۔ تاہم وبا کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے انہیں 17 اکتوبر تک کے لیے مؤخر کردیا گيا تھا۔
ملک میں لوگوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی۔نیو زی لینڈ میں میں تقریباً 35 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں سے تقریباً نصف رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
انتخابات میں آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی قدامت پسند رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔ تاہم حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی کولنز کی جماعت صرف 27 فیصد نشستیں حاصل کر پائی۔ لیبر پارٹی نے قریب 50 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں۔
پولنگ سے پہلے رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ جاسنڈا آرڈرن کی جماعت لیبر پارٹی انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیو زی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی ضروری ہوتی ہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔ ملک میں سن 1996 میں پارلیمانی طرز حکومت کو اپنایا گيا او اس وقت سے اب تک کسی بھی جماعت کو انتخابات میں واضح اکثریت نہیں حاصل ہوئی ہے۔ تاہم لیبر پارٹی پہلی مرتبہ ایسا کرنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔
ایک بڑی جیت
تجزیہ شائمہ خلیل
یہ الیکشن کسی لحاظ سے بھی سنسنی خیز نہیں تھا۔ رائے عامہ کے جائزوںمیں جاسنڈا آرڈن کی آسان جیت کی پشینگوئی کی جا رہی تھی۔ الیکشن کے نتائج نے وہی بات دہرائی جس کا لوگوں کو پہلے سے علم تھا۔ سوال صرف یہ تھا کہ ان کی جیت کتنے بڑے مارجن سے فتح حاصل کر پائیں گی۔ ان کی جیت ہر لحاظ سے بہت قابل ذکر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ لیبر پارٹی کے لیے بہت بڑی فتح ہے جس کو جاسنڈا آرڈرن جیسی مقبول رہنما میسرہے۔ جاسنڈا آرڈن کے دور میں نیوزی لینڈ مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر دہشگرد حملے ، قدرتی آفت اور کووڈ کی عالمی وبا کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام مشکل مراحل میں وہ ایک مہربان اور شفیق رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔ گراؤٹ کا سامنا ہے۔
کووڈ نائینٹن کی وبا سے متاثرہ معیشت کو پھر سے بحال کرنا ان کی اولین کوشش ہو گی کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے ان پر الزم لگایا ہے کہ کورونا کے بعد معیشت کی بحالی کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔










