امریکی صدارتی انتخاب 2020: جو بائیڈن کا ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے خطاب میں ’اندھیروں کے موسم‘ کے خاتمے کا اعادہ

جو بائیڈن نے تین نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'امریکہ کو ایک لمبے عرصے تک اندھیروں سے ڈھا نپے رکھا'۔

سابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف نے ملک میں 'بہت زیادہ غصہ، بہت زیادہ خوف اور بہت زیادہ تقسیم' کو جنم دیا ہے۔

بائیڈن کی تقریر ان کے سیاسی کریئر کا حاصل ہے جو تقریباً آدھی صدی پر محیط ہے۔

انھیں اس عام انتخاب کی مہم سے قبل عوامی رائے کے پولز میں 74 سالہ صدر ٹرمپ پر واضح برتری حاصل ہے۔ تاہم ابھی الیکشن میں 75 دن باقی ہیں اور رپبلکن صدر کے پاس اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے کثیر وقت موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے آبائی شہر ولمنگٹن ڈیلاویئر میں 77 سالہ صدر بائیڈن نے ایک ایسی تقریب میں تقریر کی جہاں زیادہ افراد موجود نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'میں آپ کو ابھی زبان دیتا ہوں کہ اگر آپ مجھے صدارتی ذمہ داری سونپتے ہیں تو میں ایک بہترین صدر بننے کی کوشش کروں گا نہ کہ بدترین۔‘

’میں روشنی کا اتحادی بنوں گا، اندھیرے کا نہیں۔‘

’یہ وقت ہے کہ ہم سب، تمام عوام، اکٹھے ہوں اور اس حوالے سے کسی گمان میں نہ رہیے گا کہ متحد ہو کر ہم امریکہ سے اس اندھیرے کے موسم کو مٹا سکتے ہیں، اور مٹائیں گے۔‘

'ہم امید کو خوف پر، حقیقت کو افسانہ پر، انصاف کو جانبدارای پر ترجیح دیں گے۔‘

بائیڈن نے کہا کہ اس نومبر 'اس کا فیصلہ آپ کا ووٹ کرے گا۔'

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے راستے کا اتنخاب کر سکتے ہیں جس میں ہم غصیلے، کم پرامید اور زیادہ منقسم ہوں، ایک ایسا راستہ جو شک اور پرچھائیوں کا ہے۔‘

’یا ہم ایک مختلف راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں اور مل کر اس موقع کا استعمال کرتے ہوئے اپنے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں، اصلاحات لا سکتے ہیں اور متحد ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا راستہ جو امید اور روشنی کا ہے۔‘

’یہ ایک زندگی بدل دینے والا الیکشن ہے۔ اس کے ذریعے فیصلہ ہو گا کہ امریکہ ایک طویل عرصے تک کیسا دکھائی دے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جو ہمیں موجودہ صدر کے بارے میں معلوم ہے وہ یہ کہ اگر انھیں مزید چار سال دیے گئے تو وہ ویسے ہی رہیں گے جیسے گذشتہ چار سالوں کے دوران تھے۔‘

’ایک ایسا صدر جو کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، رہنمائی کرنے سے انکار کرتا ہے، دوسروں پر الزام تراشی کرتا ہے، آمروں کی حمایت کرتا ہے اور نفرت اور علیحدگی کے شعلوں کو ہوا دیتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'وہ (ٹرمپ) ہر روز اٹھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ ملازمت صرف ان ہی کے لیے ہے، آپ کے لیے نہیں۔

’کیا آپ ایسا امریکہ چاہتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے اور اپنوں خاندان کے لیے۔‘

ٹرمپ کا ردِ عمل

جعمرات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنھوں نے اپنے مخالف کے 'سست جو' اور 'نیند سے مغلوب جو' جیسے نام رکھے ہیں ان ہی کی جائے پیدائش سکرینٹن میں پینسلوینیا کی سوئنگ ووٹنگ سٹیٹ کا دورہ کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’بائیڈن پینسلوینیا کا دوست نہیں ہے۔‘ انھوں نے اپنے مخالف پر الزامات لگاتے ہوئے کہ انھوں نے عالمی تجارتی معاہدوں، پیرس موسمیاتی معاہدہ اور صاف توانائی جیسے منصوبوں سے امریکیوں کی نوکریوں کو تباہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر بائیڈن کی صدارت میں اپنی زندگیوں کا تصور کرنا چاہتے ہیں تو منیاپولس کو ملبے کا ڈھیر، پورٹلینڈ میں انتشار، شکاگو کے خون میں لت پت پگ ڈنڈیاں کا تصور کریں اور ذرا سوچیں کے ہمارے قصبوں، اور امریکہ کے ہر قصبے میں افراتفری کا ماحول ہو۔‘

جو بائیڈن کی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا۔

ترجمان ٹم مرٹا نے کہا کہ ’اپنی پارٹی کا جانب سے صدارتی نامزدگی قبول کرتے ہوئے آج جو بائیڈن باضابطہ طور پر بائیں بازو کے شدت پسندوں کے پیادے بن گئے ہیں۔

’ان کی مہم کے لوگو پر تو ان ہی کا نام ہے لیکن اسے کے پیچھے موجود نظریات دراصل اشتراکی شدت پسندوں کی جانب سے آ رہے ہیں۔‘

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’جو بائیڈن جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں سے کچھ بھی انھوں نے گذشتہ 47 برس کے دوران نہیں کیا۔ وہ کبھی تبدیل نہیں ہوں گے، یہ صرف الفاظ ہیں۔‘

اگلے ہفتے صدر ٹرمپ رپبلیکن جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کے لیے نامزدگی قبول کریں گے۔

اوباما اور ٹرمپ ایک دوسرے کے نشانے پر

اس سے قبل، سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے اپنے ریپبلکن جانشین ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی اور اُن پر الزام لگایا کہ وہ صدارت کو ایک ریئلٹی شو کی طرح سمجھتے ہیں اور اسے وہ توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔

چار روزہ ڈیموکریٹک کنوینشن کے آخری روز آج جمعرات کو صدارتی امیدوار جو بائیڈن اپنی تقریر کریں گے۔

سابق امریکی صدر اوباما نے بدھ کو کنوینشن کے دوران کہا کہ اُن کے ریپبلکن جانشین اپنے عہدے میں ابھرے نہیں کیونکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔

وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اس وجہ سے منتخب ہوئے تھے کیونکہ اوباما نے امریکیوں کو برے حال میں چھوڑا تھا۔

کورونا وائرس کی وبا نے ڈیموکریٹس کو مجبور کیا کہ اس بار کنوینشن کا انعقاد ورچوئل ہو جس میں پہلے سے ریکارڈ شدہ اور براہ راست تقاریر سٹریم کی جا رہی ہیں۔

اوباما نے کیا کہا؟

بدھ کی رات باراک اوباما نے فلیڈیلفیا میں میوزیم آف دی امیریکن ریوولوشن سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا ’انھوں نے کام میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ باہمی مفادات پر کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔’

انھوں نے یہ بھی کہا ’انھیں اپنے دفتر کے بے انتہا اثر و رسوخ کو اپنے اور اپنے دوستوں کے علاوہ کسی اور کی مدد کے لیے استعمال کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کی صدارت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ’ہمارے بدترین خیالات ابھر آئے ہیں، پوری دنیا میں ہماری قابل فخر ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور ہمارے جمہوری ادارے اس سے پہلے کبھی اتنے خطرے میں نہ تھے۔’

سابق صدر نے اس دور کے ’سرکس ، مطلبی رویے، جھوٹ اور سازشی نظریات’ پر افسوس کا اظہار کیا۔

انھوں نے امریکی رائے دہندگان سے التجا کی کہ ’انھیں اپنی کی طاقت چھیننے نہ دیں۔’

واضح رہے کہ سابق امریکی صدور زیادہ تر اپنے جانشینوں کے بارے میں عوامی سطح پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

لیکن باراک اوباما نے چار سال قبل اپنی صدارت کے آخری دنوں میں متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکی عوام ریپبلکن امیدوار اور ریئلٹی شو ’دی اپرینٹس‘ کے سابقہ ​​سٹار ٹرمپ کو منتخب کرتے ہیں تو وہ اسے اپنی ’ذاتی توہین’ سمجھے گے۔

ڈیموکریٹک کنونشن میں پیر کی شب مشعل اوباما نے اپنے شوہر کے جانشین پر کڑی تنقید کی تھی اور انھیں نااہل قرار دیا تھا۔

اُن کی یہ پیش قدمی امریکیوں کے لیے اس لیے بھی اہم تھی کیونکہ موجودہ اور سابقہ امریکی خاتون اول سیاسی محاذ پر اترنے سے کتراتی ہیں۔

ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے ان کے پیشرو کے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا ’مجھے وہ تباہی نظر آ رہی ہے جس میں انھوں نے ہمیں چھوڑا اور انھوں نے جو لین دین کی وہ احمقانہ تھی۔’

انھوں نے کہا ’دیکھیں وہ کتنا خراب کام کرتے تھے، وہ کتنے غیر مؤثر صدر تھے، وہ بہت بے اثر تھے، بہت ہی خراب۔’

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر اوباما نے اچھا کام نہیں کیا اور میرے یہاں آنے کی وجہ صدر اوباما اور جو بائیڈن ہیں۔’

انھوں نے مزید کہا ’انھوں نے اتنا خراب کام کیا کہ میں بطور صدر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔’

کنوینشن میں اور کون بولا؟

بدھ کی رات سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزد امیدوار ہلیری کلنٹن نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے اُن کے وائٹ ہاؤس کے عزائم کو ناکام بنا دیا تھا۔

نیویارک کے علاقے چیپاکیوڈک میں اپنے گھر سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’کاش ڈونلڈ ٹرمپ بہتر صدر ہوتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ ویسے ہیں جیسے وہ ہیں۔’

سابق خاتون اول اور سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا ’چار سال سے لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں، مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ وہ کتنے خطرناک ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ایسے ووٹ ڈالیں جیسے ہماری زندگی اور ذریعہ معاش کا انحصار اس پر ہے۔’

ڈیموکریٹک کانفرنس کے تیسرے روز کاملہ ہیرس نے نائب صدر کی نامزدگی قبول کی۔

اپنے خطاب میں کاملہ ہیرس نے امریکی اقدار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہاں سب کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، چاہے ہم جیسے بھی نظر آئیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں یا ہم کس سے پیار کرتے ہیں۔’

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس نظریہ پر جو بائیڈن کے ساتھ متفق ہیں۔ اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔’

کاملہ ہیرس کا کہنا تھا ’ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ناکامی کی وجہ سے جانیں گئی ہیں اور لوگوں کے روزگار نہیں ہیں۔’

اُن کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو زندگی کے ضیاع، نوکریوں کے ضیاع پر غمزدہ ہیں اور غیر یقینی کی حالت ہے۔’

چار روز لمبی ڈیموکریٹک کنوینشن کے آخری روز جمعرات کو صدارتی امیدوار جو بائیڈن اپنی تقریر کریں گے۔

بائیڈن اور ہیرس 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ اور ان کے نائب صدر مائیک پینس کو وائٹ ہاؤس کے لیے چیلنج کریں گے۔