نیویارک میں نیا قانون: مذہبی بنیادوں پر ویکسین سے استشنیٰ ختم

امریکی ریاست نیویارک کے قانون سازوں نے ریاست میں خسرے کی وبا پھیلنے کے بعد سکولوں میں بچوں کو ٹیکہ لگائے جانے کے معاملے میں مذہبی بنیادوں پر دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کی شب اس قانون کے منظور کیے جانے کے بعد ریاستی اسمبلی میں ہنگامہ خیز مناظر دیکھنے میں آئے جس میں ٹیکے کی مخالفت کرنے والوں کو قانون سازوں کے ساتھ دست و گریبان دیکھا گیا۔

نیویارک میں پھیلنے والی وبا زیادہ تر قدامت پسند یہودی برادریوں میں پائی گئی ہے۔ خیال رہے کہ وہ مذہبی بنیادوں پر ویکسین سے اب تک پرہیز کرتے رہے ہیں۔

رواں سال امریکہ میں ایک ہزار سے زیادہ امریکیوں میں خسرے کے مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ محکمہِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ’بیماری پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔‘

گذشتہ ماہ اس بیماری کی روک تھام کے متعلق امریکی مرکز (سی ڈی سی) نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ پھر سے ’خسرے کے مرض سے پاک ملک کی حیثیت کھو سکتا ہے‘ کیونکہ یہاں خسرے کا مرض گذشتہ 27 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2000 میں امریکہ کو خسرے سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیویارک میں نئے قانون کو ریاست کی ڈیموکریٹک سینیٹ اور اسمبلی چیمبرز نے منظور کیا ہے جس کے تحت والدین کو اپنے بچوں کو ٹیکہ لگانے سے مذہبی بنیادوں پر روکنے کے حق کو ختم کر دیا گيا ہے۔ عام طور پر سکولوں میں تمام بچوں کو ویکسین لگائی جاتی ہے۔

اس بل کو پیش کرنے والے برونکس کے ڈیموکریٹ جیفری دینووٹز کا کہنا تھا کہ ’میں تورات، انجیل اور قرآن میں کسی ایسی چیز سے واقف نہیں جو یہ کہے کہ آپ کو ٹیکہ نہیں لگوانا چاہیے۔‘

ریاست کے سینیٹر بریڈ ہولی مین کا کہنا تھا ’ہم ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پر سائنس کو ترجیح دے رہے ہیں اور ہم ان بچوں، بالغوں، حاملہ خواتین اور نوزائیدوں کے حق کے لیے کھڑے ہیں جنھیں ان کی اپنی کسی غلطی کے بغیر ہی ویکسین سے محروم کر دیا گیا ہے اور جنھیں ان بمیاریوں سے خطرہ لاحق ہے۔‘

گورنر اینڈریو کیومو جنھوں نے قانون سازوں کی منظوری کے بعد اس بل پر دستخط کر کے اسے قانونی درجہ دیا۔ ان کا کہنا تھا ’سائنس بالکل واضح ہے کہ ویکسینز محفوظ ہیں، مؤثر ہیں اور بچوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ ہیں۔‘

’ہم مذہبی آزادی کو سمجھتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں لیکن ہمارا پہلا کام عوام کی صحت کی حفاظت ہے اور اس اقدام کو قانون کے طور پر دستخط کرنے سے ہم اس کی مزید منتقلی اور اس کے پھیلاؤ کو شروع میں ہی روک دیں گے۔‘

تقریبا تین چوتھائی خسرے کا معاملہ نیویارک میں بروکلین کے پڑوس ولیئمزبرگ کی قدامت پسند یہودی برادری میں دیکھا گیا ہے۔

کیلیفورنیا، میسیسیپی، مغربی ورجینیا اور مائن کے سکولوں میں بھی بچوں میں غیر طبی ویکسن سے استثنی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس طرح کے استثنی دوسری 45 ریاستوں میں ابھی بھی حاصل ہیں لیکن قانون سازوں نے ان میں سے بعض ریاستوں میں اسے ہٹانے کے لیے کوشش شروع کر دی ہے۔

جب البینی میں قانون منظور ہوا تو مذہبی مظاہرین جو وہاں اپنی مخالفت درج کرانے جمع ہوئے تھے وہ ’شرم کرو‘ کے نعرے لگاتے رہے جبکہ دوسرے چیختے رہے کہ یہ مذہب کی بے حرمتی ہے۔

بل پیش کرنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے مذہبی لبادے میں ایک شخص نے چیخ کر کہا ’ہم تمہارے لیے واپس آئيں گے جیفری!‘

بظاہر دھمکی کے بعد مسٹر ڈینووٹز نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ’مجھے یقین ہے کہ ابھی میرے لیے راہداریاں بہت خطرناک ہیں۔‘

اس قانون کے تحت طلبہ کو 30 دن کی مہلت ملتی ہے کہ وہ بمیاری سے مدافعت کے ٹیکے لگوائے جانے کے اپنے شواہد سکول میں جمع کرائیں۔ ایسے شواہد کی عدم موجودگی میں طلبہ کو سکول میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔

محکمۂ صحت نے ولیئمزبرگ میں جانچ کے بعد جمعرات کو دو سکولوں کو بند کر دیا۔ انھیں یہ پتہ چلا کہ وہ بغیر ویکسین والے بچوں کو سکول میں آنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

نیویارک سٹی کے میئر نے جب سے یہ حکم صادر کیا ہے کہ جو کوئی بھی بروکلین کے پڑوس میں سکول جاتا ہے اور اس کے لیے کام کرتا ہے اسے ویکسین دیا جانا لازمی ہے، اس کے بعد سے وہاں 11 سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

سنہ 1960 کی دہائی جب سے امریکہ میں اس بیماری سے مدافعت کے ٹیکے دیے جانے کی مہم شروع ہوئی ہے اس سے پہلے تک ہزاروں بچے ہر سال کسی نہ کسی مہلک مرض کی زد میں آتے رہتے تھے۔

سی ڈی سی کے اعدادوشمار کے مطابق ایک دہائی قبل تک ایسے معاملے میں کم از کم 100 فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی۔