امریکی صدور کی ذہنی صحت: دنیا کا طاقتور عہدہ اور اعصاب کا امتحان

    • مصنف, جُوڈ شیرین
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن

صدر ٹرمپ امریکہ کے پہلےصدر نہیں ہیں جنھیں ان کے سیاسی مخالفین اور طبی پیشے سے وابستہ افراد ’ذہنی طور پر غیرمتوازن‘ شخص قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کچھ پیش رو جنونی، افسردگی کا شکار، دوہری شخصیت کے مالک اور ذہنی مریض تھے۔

سنہ 1776 کی گرمیوں میں، امریکہ کی جنگ آزادی میں باغیوں کو اتنی ناکامیاں ہو رہی تھیں کہ جارج واشنگٹن نے انگریز فوج کے ہاتھوں خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سوانح عمری لکھنے والے رون چرناؤ کے مطابق باغی ملیشیا نے جب بدحواس ہو کر مینہیٹن کی بندرگاہ سے بھاگنا شروع کیا تو 44 سالہ سپریم کمانڈر جارج واشنگٹن اپنے حواس کھو بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیے

گھوڑے کی پشت پر سوار جارج واشنگٹن گم سم ہو گئے اور انھوں نے آسمان کی طرف گھورنا شروع کر دیا جبکہ ایک درجن سے زیادہ برطانوی فوجی ایک کھیت میں تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔

مستقبل میں امریکی صدر کے معتمد خاص بننے والے ان کے ساتھی نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر انھیں محفوظ مقام تک پہنچایا۔

ان کے ایک جنرل نتھینئل گرین نے بعد میں کہا تھا کہ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے جارج واشنگٹن اپنے فوجیوں کی کارکردگی سے اس قدر مایوس ہو گئے تھے کہ انھوں نے زندگی پر موت کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

جارج واشنگٹن کو پیش آنے والی اعصابی کیفیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انتہائی بحرانی حالات میں قائدین بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اب اگر آپ کو 250 سال آگے لے آئیں تو جارج واشنگٹن کے ایک سیاسی وارث کو ان سے کہیں زیادہ کڑے امتحان کا سامنا ہے۔

جس دن سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے اس دن سے صدر کی نفسیاتی حالت کے بارے میں باتیں ہو رہیں ہیں۔حتیٰ کہ اس طرح کے مضامین بھی شائع ہو رہے ہیں جن کا مقصد امریکہ کے 45ویں صدر کو ذہنی مریض ثابت کرنا ہے۔

یہ مضامین ان عنوانات سے شائع ہو چکے: ڈینجرس کیس آف ڈونلڈ ٹرمپ ( ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک معاملہ): ستائیس ماہرین نفسیات اور ذہنی امراض کے ماہرین کی راکٹ مین صدر کی تشخص نیوکلیئر میڈنیس اینڈ مائنڈ آف ڈونلڈ ٹرمپ (جوہری پاگل پن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ذہن)، اے کلیئر اینڈ پریزنٹ ڈینجر (ایک واضح اور موجود خطرہ)، نارسیسزم ان دی ایرا آف ڈونلڈ ٹرمپ (ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نرگسیت)، ٹوائلاٹ آف امریکی سینیٹی (امریکی عقل پر شام کا سایا)۔

لیکن صدر ٹرمپ، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک متوازن اور ذہین شخص ہیں، وہ کسی بھی طور پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھیں ایک دیوانہ قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔

امریکہ کے دوسرے صدر جان ایڈمز کے بارے میں اکثر ان کے حریف جیفرسن کہتے تھے کہ وہ 'کبھی کبھی بالکل پاگل ہو جاتے ہیں۔‘

امریکی ریاست فلیڈلفیا سے شائع ہونے والے جیفرسن کی جماعت کے ترجمان جریدے ’فلیڈلفیا آرورا‘ نے تب لکھا تھا کہ’جان ایڈمز اپنے حواس کھو چکے ہیں۔‘

اسی طرح، تھیوڈور روزویلٹ کے بارے میں نفسیات کے سائسنی جریدے ’جرنل آف ابنارمل سائیکولوجی‘ نے نظریہ پیش کیا تھا کہ ’وہ تاریخ میں شعوری عمل میں خلل کی بڑی مثال کے طور پر پیش کیے جائیں گے‘۔

سنہ 1912 میں جب روزویلٹ دوبارہ برسراقتدار آنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے تو امریکہ کے نامور تاریخ دان ہینری ایڈمز نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ روزویلٹ کا دماغ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، اور ان کا اعصابی نظام جواب دے سکتا ہے یا وہ دیوانگی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

وڈرو ولسن کو جب فالج کا دورہ پڑا تو ان کے ناقدین وائٹ ہاؤس کی پہلی منزل کی کھڑکیوں پر لگائے گئے جنگلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وائٹ ہاؤس پاگل کی پناہ گاہ بن گئی ہے۔

لیکن وڈروولسن کی سوانح عمری میںجان ملٹن کوپر لکھتے ہیں کہ یہ جنگلے ٹیڈی روزویلٹ کے دورِ صدرات میں لگائے گئے تھے کہ کہیں ان کے لڑکے بیس بال سے کھڑکیوں کے شیشے نہ توڑ دیں۔

امریکہ کے پہلے37 سپہ سالاروں کے نفسیاتی جائزوں کے مطابق ایڈمز، روزویلٹ اور ولسن کو نفسیاتی مسائل لاحق تھے۔

سنہ 2006 میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ 49 فیصد امریکی صدر اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ذہنی عارضے کا شکار رہے ہیں۔(یہ اندازے تحقیق دانوں کے مطابق امریکہ کے قومی اعداد و شمار سے مطابقت رکھتے ہیں۔) ان میں سے 27 فیصد پر یہ اثرات ان کےدورِ اقتدار کے دوران بھی رہے۔

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم کے مطابق ان صدور میں سے چار میں سے ایک میں ڈیپریشن کی تمام علامات پائی جاتی تھیں اور ان صدور میں جیمز میڈیسن اور وڈروولسن شامل تھے۔

اسی ٹیم نے ٹیڈی روزویلٹ اور جان ایڈمز کے بارے میں کہا کہ وہ دوہرے پن کا شکار تھے جبکہ تھامسن جیفرنس اور اولیسس گرانٹ کو 'سوشل اینگزائٹی' یا سماجی اضطراب کی شکایت تھی۔

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے پروفیسر جانتھن ڈیوڈسن نے کہا کہ اس طرح کے کام کا دباؤ ذہنی مسائل پیدا کر دیتا ہے خصوصاً ان لوگوں میں جن میں ایسے مسائل پہلے سے پوشیدہ ہوں۔

'صدر پر انتہائی ذہنی دباؤ ہوتا ہے اور کسی کی بھی اس دباؤ کو مسلسل برداشت کرنے کی لامحدود صلاحیت نہیں ہوتی۔'

وڈورولسن کو فالج کا دورہ سنہ انیس سو انیس میں اس وقت پڑا جب وہ معاہدہ ورسریلزز کو منظور کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کی وجہ سے انھیں ڈیپریشن ہوا جو سنہ انیس سو اکیس میں ان کا دورہ صدرات ختم ہونے تک جاری رہا۔

اس دوران خاتون اول ایڈتھ ولسن عملاً ایوان صدر چلاتی رہیں اور مخالفین اس کو 'پیٹی کوٹ حکومت' یا خاتون کی حکمرانی قرار دے کر تنقید کرتے رہے۔

جب ولسن اقتدار سے الگ ہوئے تو ایک اخبار نویس نے کہا کہ وہ اپنی اصل شخصیت کی شکستہ باقیات بن چکے تھے۔

غم سے مفلوج

دو اور صدراتی ادوار کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ذہنی طور پر ڈیپرشن کی وجہ سے خراب ہوئے۔

پروفیسر ڈیویڈسن کے مطابق کیلون کولِج اور فرینکلن پیئرس بھی پژمردگی، ڈیپرشن اور بیٹوں کی موت کی وجہ سے بالکل بے اثر رہنما ہو کر رہ گئے تھے۔

پیئرس کو سنہ ا1853 میں صدرات کا حلف اٹھاتے ہی انتہائی شدید ذہنی صدمہ اٹھانا پڑا۔ امریکہ کے چودہویں صدر کی بیوی جین اور ان کا بیٹا بینجمن، اس ٹرین پر سوار تھے جو اینڈور میسیچیوسٹ میں حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

جس بوگی میں وہ سوار تھے وہ حادثے کا شکار ہوئی اور بینجمن موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے۔ پیئرس کے ہاں پیدا ہونے والے تین لڑکوں میں وہ زندہ بچ جانے والے آخری بیٹے تھے۔

ڈیموکریٹ جماعت کے صدر نے اپنے وزیر دفاع جیفرسن ڈیوس کو ایک خط تحریر کیا جس میں انھوں نے لکھا کہ یہ ان کے لیے انتہائی مشکل کام ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے وہ کس طرح اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کریں۔

پروفیسر ڈیویڈسن کا کہنا ہے کہ پیئرس اپنے اندرونی زخموں کی وجہ سے اپنے اختیارات استعمال کرنے کے قابل نہیں رہے تھے اور قوم خانہ جنگی کی طرف جاتی رہی۔

وہ امریکہ کے منتخب صدور میں سے واحد صدر تھے جو اپنے بل و بوتے پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اگلے انتخابات میں ان کی اپنی جماعت نے انھیں چھوڑ دیا۔

پیئرس کے صدمے اور ایک ایسے نازک دور میں جب قوم خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑی تھی، صدر پر پڑنے والی بھاری ذمہ داریوں کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان کی شراب پینے کی پرانی عادت اور زیادہ شدید ہو گئی تھی۔

ان کی سوانح عمری لکھنے والے مائیکل ایف ہولٹ کے مطابق پیئرس کی موت جگر کے عارضے کی وجہ سے ہوئی۔

کولِج نے ایک پرامید گرمجوش، محنت پسند اور توانائی سے بھرپور شخص کے طور پر صدر کا عہدہ سنبھالا تھا،لیکن 1924 میں ان کا سولہ برس کا بیٹا کیلون جونیئر وائٹ ہاؤس کے ٹینس کورٹ میں 'ٹرینر اور جرابیں' پہن کر ٹینس کھیلنے گیا۔ ان کے پاؤں میں ایک کانٹا لگا جس کا زخم بعد میں خراب ہوا اور خون میں زہر پھیلنے سے ان کی موت ہو گئی۔

صدر کی سوانح عمری مرتب کرنے والے ایمٹی شیل لکھتے ہیں کہ کولِج ہمیشہ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار خود کو ٹھہراتے رہے۔

انھوں نے اپنی زندگی میں اپنی اہلیہ، اپنے دوسرے بیٹے اور خود اپنی قبروں کے قطبے تیار کروالیے تھے۔

وہ کہا کرتے تھے کہ جب بھی وہ وائٹ ہاؤس کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں تو انھیں اپنا بیٹا ٹینس کھیلتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

اس صدمے کے بعد ان کا رویہ بہت عجیب سا ہو گیا تھا۔ وہ اکثر اپنے مشیروں، خاندان والوں اور مہمانوں پر برس پڑتے تھے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونےوالے ایک عشائیے میں وہ صدر جان کوئنسی ایڈمز کی ایک تصویر میں الجھ گئے اور اس تصویر میں انھیں صدر کا سر زیادہ روشن دکھائی دینے پر اعتراض ہونے لگا۔

کولِج نے ایک ملازم کو حکم دیا کہ وہ سیڑھی لگا کر اس پینٹنگ میں ایڈمز کے سر پر راکھ لگا دیں تاکہ یہ اتنا روشن دکھائی نہ دے۔

جان کوئنسی ایڈمز بھی پژمردگی یا ڈیپرشن کا شکار ہو گئے تھے اور وہ ایوان صدر میں افسردہ افسردہ ادھر ادھر پھرتے رہتے تھے۔ ان کی سوانح حیات لکھنے والے ہارلو جائل اونگر کے مطابق وہ بلیئرڈ کھیلتے تھے یا اپنی برطانوی نژاد اہلیہ کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔

کولِج نے بعد میں سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہوئی کہ 1929 میں وال سٹریٹ میں مندی آنے سے ایک برس قبل وہ معاشی بحران سے بالکل بے خبر تھے اور انھیں خطرے کی گھنٹی سنائی نہیں دی۔

سٹاک ایکسچیج میں جاری عام سٹہ بازی کو روکنے کے لیے قانون سازی کے دوران انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے، اس کی کیا شقیں ہیں اور اس بارے میں کیا بحث ہو رہی ہے۔

امریکہ کے 30ویں صدر نے اپنی سوانح حیات میں لکھا کہ جب ان سے ان کا بیٹا جدا ہوا تو ان کے عہدے کی تمام تر شان و شوکت اپنے ساتھ ہی لے گیا۔

انھوں نے کہا وہ نہیں جانتے کہ وائٹ ہاؤس میں رہنے کی انھیں اتنی بڑی قیمت کیوں ادا کرنا پڑی۔

ان کے برعکس، دیگر کئی صدور اپنے ذاتی صدموں اور حادثات سے نکلنے میں کامیاب ہو ئے۔

تیھوڈر روزویلٹ سنہ 1884 میں اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں اپنی نوجوان اہلیہ اور والدہ کی ویلنٹائن ڈے پر موت کی وجہ سے شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئے اور ڈیپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔

وہ چند برس تک ریاست ڈکوٹا کے بنجر علاقوں میں گھومتے رہے اور وہاں انھوں نے مویشیوں کا ایک باڑا بھی بنایا۔ اس دوران وہ بھینسوں کے شکار میں مصروف رہے۔

سوانح نگار ڈیویڈ ہربرٹ ڈونلڈ کے مطابق ابراہم لنکن بھی اپنی تمام زندگی پژمردگی کا شکار رہے۔

سنہ 1841 میں سپرِنگ فیلڈ (ریاست الینوائے) میں جب وہ سرکاری قانون ساز کے طور پر کام کر رہے تھے تو ان کی منگیتر میری ٹاڈ نے ان سے رشتہ توڑ لیا جس سے وہ شدید ڈیپرشن میں چلے گئے۔

ان کے ایک دوست نے اس ڈر سے کہ وہ کہیں خود کشی نہ کر لیں ان کی نگرانی شروع کر دی اور ان کے کمرے سے چھریاں اور استرے ہٹا لیے۔

دارالحکومت میں یہ افواہیں گرم ہو گئی تھیں کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔

ان کے مستقل رنجیدہ رہنے کی وجہ سے ان کے مشیران سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ امریکہ کی جنگ آزادی کے دوران ٹائیفائڈ کی وجہ سے ان کے گیارہ سالہ بچے کی موت سے ان کے ذہن پر کیا اثر پڑا اوروہ کیسے اس سے نکل پائے۔

اسی برس بال رن کی دوسری جنگ میں شرمناک شکست کے بعد لنکن نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ وہ گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان لینے کا سوچ رہے تھے۔

لیکن ان صدمات کے باوجود امریکہ کے 16ویں صدر نے خود کو اور ریاست کو سنبھال کر رکھا۔

اپنے بیٹے ویلی کی موت کے فوراً بعد انھوں نے اپنے غیر مستقل مزاج فوجی کمانڈر جارج میکلین کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

ان کی جگہ ایک افسردہ، شرمیلے خون دیکھ کر گھبرا جانے والے شرابی، یولیس گرانٹ کو لگایا جنھوں نے یونین کی فوجوں کو فتح سے ہمکنار کیا۔

’خبطی‘ صدور

ماہرین کے خیال میں دہنی امراض کے باوجود کچھ لیڈروں کو کسی حد تک اس سے فائدہ بھی ہوا۔

2012 میں اموری یونیورسٹی کی طرف سے ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ بل کلنٹن سمیت کئی صدور میں نفسیاتی امراض کے اثرات موجود تھے۔

ان میں سے دو جو سب سے زیادہ نفسیاتی مریض پائے گئے ان میں لنڈن بینز جانسن اور اینڈریو جیکسن تھے جنھیں صدر ٹرمپ ہیرو مانتے ہیں۔

نفسیاتی مسائل جن کی ایموری کی ٹیم نے نشاندہی کی ان میں غیر حقیقی دلکشی، خودپسندی، اناپسندی، بدیانتی، سنگدلی، خطرات مول لینے کی عادت، ہیجان اور بے خوفی شامل تھی۔

اس تحقیق میں ہر صدر کو شامل کیا گیا، سوائے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر باراک اوباما۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر لیلنفیلڈ کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ سارے مسائل ہر کسی شخص کو لاحق ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی وجہ سے لوگ اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں،’مثال کے طور پرلِنڈن جانس کی انا اتنی بڑی تھی جتنی بڑی ان کی ریاست ٹیکساس ہے‘۔

ان کی سوانح عمری لکھنے والے رابرٹ کارو کے مطابق انھوں نے 1948 میں سینیٹ کے انتخابات کھلے عام چرائے اور وہ بے شرمی سے اس حوالے سے مذاق بھی کرتے تھے۔

جانسن اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی سکرٹ میں بغیر سوچے سمجھے ہاتھ ڈال دیتے تھے جبکہ ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوتی تھیں۔

وہ اپنے عملے کی توہین کرنے میں مزا لیتے تھے اور انھیں پشاب یا حجابت کرتے ہوئے ڈکٹیشن لینے کے لیے بلا لیتے تھے۔

1964 میں خلیج ٹونکن میں بحری جھڑپ کے بارے میں عام خیال یہ ہی ہے کہ لِنڈن جانسن نے جھوٹ بولا تھا، جو غالباً ان کی سیاسی زندگی کے ختم ہونے کا باعث بنا۔جانسن نے اسی واقعے کو استعمال کرتے ہوئے ویتنام کی جنگ میں امریکہ کی مداخلت ممکن بنائی۔

اس کے بعد وینتام میں جارحانہ مزاحمت سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث چار سال بعد لِنڈن جانسن نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ صدارت کے عہدے کے امیدوار نہیں ہوں گے۔

اینڈریو جیکسن کو، جنھوں نے انڈین ریموول ایکٹ کے تحت مقامی باشندوں کی نسل کشی پر دستخط کیے تھے، آج ایک ظالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ وہ امریکی تاریخ میں واحد صدر تھے جن کے دور میں تمام قرضے اتار دیئے گئے تھے۔

صدر بل کلنٹن کی شہرت کو جنسی سکینڈل کی وجہ سے نقصان اٹھاناپڑا تھا۔

کچھ صدور اوول آفس کے دباؤ کو دوسروں کے مقابلے میںبہتر طریقےسے نہیں جھیل پائے۔

حتیٰ کہ نائب صدر کی حیثیت سے رچرڈ نکسن بھی ڈیپرشن کی ادویات کا استعمال کر رہے تھے اور وہیہ ادویات بھی شراب کی مدد سے نگلتے تھے۔

سوانح نگار جان فرایرلز لکھتے ہیں کہ واٹر گیٹ کے بحران کے دوران صدر نکسن ضرورت سے زیادہ شراب پیتے تھے اور متزلزل ہو گئے تھے۔

اسی طرح ہینری کسنجر نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ صدر نکسن مشرق وسطیٰ میں بحران کے دوران ایک دن نشے میں ہونے کی وجہ سے برطانوی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات بھی نہیں کر سکے تھے۔

تو کیا صدر ٹرمپ ذہبی طور پر بیمار ہیں؟

پروفیسر ڈیویڈسن کی تشخیص ہے کہ نہیں۔

وہ بین الاقوامی سطح پر ماہرین میں جاری بحث کا حوالہ دیتے ہیں کہ آیا نرگسیت شخصیت کی خرابی ہے۔

لیکن ناصر غیمی اس موضوع پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ میں ’پاگلپن‘ کی علامات موجود ہیں۔

ٹفٹ سکول آف میڈیسن میں نفسیات کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’زیادہ سوتے نہیں اور ان میں جسمانی توانائی ضرورت سے زیادہ ہے۔‘

'ان کی طبیعیت خرچ کرنے اور وہ کسی چیز پر توجہ بھی مرکوز نہیں کر پاتے۔'

پروفیسر کے مطابق ان کی یہ خصوصیات ان کی صدارتی مہم کے دوران بہت مدد گار ثابت ہوئیں۔

’وہ ایسی چیزوں پربھی بات کرتے تھے جو ایک عام، ذہنی طور پر صحت مند اور متوازن انسان، جیسا کہ ہیلری کلنٹن نہ نہیںکیں۔‘

ہمیں اکثر کہا جاتا کہصدر ٹرمپ کی صدارت نے تاریخی اصولوں کو توڑ دیا ہے۔

لیکن سابقہ سپہ سالاروں کی عجیب اور مشکل زندگیاں یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ پھرنارمل کیا ہے؟

۔