آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمیمہ بیگم کے تیسرے بچے کا انتقال، برطانوی وزیر داخلہ پر تنقید
سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 میں لندن چھوڑ کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والی شمیمہ بیگم کا پیدا ہونیوالا تیسرا نوزائیدہ بیٹا انتقال کر گیا ہے۔
پناہ گزین کیمپ چلانے والے گروہ جہاں شمیمہ بیگم رہائش پذیر ہیں نے اس کی تصدیق کی ہے۔
طبی سرٹیفکیٹ کے مطابق نوزائیدہ بچے کی موت نمونیا کے باعث ہوئی۔ اس بچے کی عمر تین ہفتوں سے کم تھی۔
برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بچے کی موت اس کے خاندان کے لیے ’المناک اور دکھ کا باعث بنتی ہے۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلسل اپنے شہریوں کو شام کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ہم ایسا سب کچھ کرتے رہیں گے جس سے ہم لوگوں کو دہشت گردی میں پھنسے اور متنازع علاقوں میں جانے سے بچا سکیں۔
خیال رہے کہ شمیمہ اپنی دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 2015 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اور رواں برس فروری کے وسط میں شامی پناہ گزین کیمپ سے ملی تھیں۔ وہ واپس برطانیہ آنا چاہتی تھیں تاہم ان کو برطانوی شہریت سے محروم کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمیمہ بیگم کے شوہر یاگو ریڈیک جو اس وقت مشرقی شام میں قائم ایک حراستی مرکز میں قید ہیں، انہیں ان کے بیٹے کی موت کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
کردش ہلال احمر کے کیمپ میں کام کرنے والے طبی عملے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ جراح نامی بچے کو سانس میں دشواری کا سامنا تھا۔
اس کو جمعرات کی صبح والدہ کے ہمراہ ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تھا۔ طبی عملے نے مزید بتایا کہ بچے کا انتقال مقامی وقت کے مطابق 13:30 پر ہوا۔
جس کے بعد شمیمہ بیگم واپس اپنے کیمپ میں آگئیں اور گذشتہ روز ان کے بچے کی تدفین کر دی گئی تھی۔
اظہار ہمدردی کے علاوہ کچھ نہیں
برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے بچے کے انتقال کی تصدیق سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’افسوس ہے کہ وہاں شاید بہت سے بچے ہیں جو یقیناً بے گناہ ہیں اور اس جنگ زدہ علاقے میں پیدا ہوئے ہیں۔‘
’میرے پاس سوائے ہمدردی کے ان بچوں کے لیے کچھ نہیں ہے جو اس سب میں گھسیٹے گئے ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ کسی کا جنگ زدہ علاقے میں موجود ہونا کتنا خطرناک ہوتا ہے۔‘
19 سالہ شمیمہ بیگم نے گذشتہ ماہ ایک صحافی کی جانب سے ایک شامی پناہ گزین کیمپ میں ان کو تلاش کرنے کے کچھ عرصہ بعد ہی اپنے بچے کو جنم دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے باغز میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے آخری مضبوط گڑھ کو چھوڑ دیا ہے۔
شمیمہ بیگم پہلے دو بچوں کو کھو چکی ہیں اور انھوں نے اپنے نوزائیدہ بیٹے جراح کا نام اپنے پہلے بیٹے کے نام پر رکھا تھا۔
چونکہ شمیمہ بیگم کے بیٹے کی پیدائش ان کی برطانوی شہریت ختم کرنے سے پہلے ہوئی تھی لہذا اس بچے کو برطانوی شہری تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ شمیمہ بیگم کے خاندان نے برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ فوری طور پر شمیمہ کو شام سے برطانیہ واپس لائیں۔ جس پر برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ شمیمہ کو ملک واپسی پر الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے 19 سالہ شمیمہ بیگم نے جو کہ شام میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں موجود ہیں یہ پیغام دیا تھا کہ وہ نو ماہ کی حاملہ ہیں اور بچہ پیدا کرنے کے لیے واپس گھر آنا چاہتی ہیں۔