آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یاسین ابوبکر: مبلغ، گینگسٹر، یا غریبوں کا مددگار
ٹرینیڈاڈ میں لوگ یاسین ابوبکر کو کیا سمجھتے ہیں، اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ یہ سوال پوچھ کس سے رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یاسین ابوبکر ایک نہایت باعزت مذہبی رہنما اور ارد گرد کے لوگوں کی انتھک مدد کرنے والی شخصیت ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ وہ غنڈوں کے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے والے 'گاڈ فادر' ہیں۔
تو پھر یاسین ابوبکر اصل میں کیا ہیں؟ یہی جاننے کے لیے ایک جمعے کو کولن فریمین ان سے ملنے ٹرینیڈاڈ کے دارالحکومت پورٹ آف سپین میں یاسین ابوبکر کے نام سے پہچانی جانے والی ایک مسجد میں پہنچے جہاں، ابو بکر خود خطبہ دے رہے تھے۔
جمعے کی نماز ختم ہوئی تو ہمیشہ کی طرح وہاں لوگوں کی ایک طویل قطار تھی جو یاسین ابو بکر سے مدد کی درخواست کرنے آئے ہوئے تھے۔
ان میں اکثریت ان کی تھی جو ان سے روحانی مسائل یا شادی کے لیے مشورہ کرنے آئے تھے، تاہم بعض اوقات لوگ ان سے اپنی چوری شدہ کار واپس دلوانے، قرض ختم کروانے یا ٹرینیڈاڈ میں سرگرم مختلف گینگز یا گروہوں کی آپس کی لڑائیاں اور چپقلش ختم کروانے کی درخواست بھی لیکر آتے ہیں۔
بقول ان کے 'یہ بھی جھگڑے ختم کرانے کا ایک متبادل نظام ہے۔'
وہ پولیس کے ملازم تھے اور آج سے بہت پہلے، سنہ 1969 میں وہ ٹرینیڈاڈ کے ان پہلے پہلے لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے مصر سے آئے ہوئے ایک مبلغ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ابو بکر کو مسیحیت کی نسبت اسلام زیادہ پرکشش دکھائی دیا کیونکہ انھیں مسیحیت کے ساتھ اپنے ملک کا وہ نو آبادیاتی دور یاد آ جاتا ہے جب ٹرینیڈاڈ غلام ہوتا تھا۔ لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد بھی وہ محض ایک جگہ بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کر کے مطمئن ہونے والے نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1970 کے بعد انھوں نے کئی برس لیبیا میں کرنل قذافی کے خصوصی مہمان کی حیثیت میں گزارے، جو ان دنوں دنیا بھر میں سرگرم مسلمان کارکنوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ اُس کے بعد ابوبکر اپنے وطن لوٹ آئے جہاں انھوں نے ’جماعت المسلمین' کے نام سے اپنی ایک تنظیم قائم کر لی۔
جلد ہی اس تنظیم کو ٹرینیڈاڈ کے غریب علاقوں میں حمایت ملنا شروع ہو گئی جہاں یہ لوگ گلیوں کو منشیات فروشوں سے پاک کرنے کا کام کر رہے تھے۔ جن لوگوں نے ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، ان میں کچھ خود بھی سخت جان گینگسٹرز رہ چکے تھے، اور وہ علاقے جہاں پولیس بھی جانے سے گھبراتی تھی، وہاں اس تنظیم کے 'جرنیلوں' کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔
لیکن ٹرینیڈاڈ کی حکومت کو ملک کے اندر ایک اور حکومت کا خیال پسند نہیں آیا اور پھر تنظیم کے کارکنوں اور حکومت میں جھگڑوں کے بعد یاسین ابو بکر کو محسوس ہوا کہ اب حکومت ان کی جماعت کا قلع قمع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ حکومت جماعت کا بوریا بسترا گول کرتی، یاسین ابوبکر نے خود حکومت کی بیخ کنی کرنے کی ٹھان لی۔
سنہ 1990 میں ابو بکر کے ایک سو حامیوں نے پارلیمان پر حملہ کر کے وزیراعظم کو یرغمال بنا لیا اور حکومت کا تختہ الٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ کسی بھی مسلمان گروہ کی طرف سے کسی مغربی ملک میں حکومت کا تختہ الٹنے کی پہلی کوشش تھی۔ پارلیمان پر حملے کے چھ دن بعد جب حکومت نے معافی کا اعلان کیا تو یاسین ابو بکر نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا اور پھر اگلے دو برس انھوں نے جیل میں گزارے۔
ابوبکر کہتے ہیں کہ گرفتاری کے بعد انھوں نے طے کر لیا تھا کہ اب وہ صرف پرامن سیاست کریں گے۔ اگرچہ اس کے بعد بھی ان کی جماعت کے ارکان پر مافیا جیسی کارروائیاں کرنے کا الزام لگتا رہا ہے اور خود ابوبکر کو بھی ان الزامات کا سامنا رہا، لیکن بعد میں انہیں قتل اور بھتہ خوری کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔ برسوں بعد، گذشتہ عرصے میں حکومت ان خبروں سے پریشان ہو گئی کہ ابو بکر کے تقریباً ایک سو حمایتی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام چلے گئے ہیں۔ یہ تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں لیکن صرف تیرہ لاکھ کی آبادی کے ملک سے ایک سو جنگجوؤں کا شام جانا، حکومت کے لیے بہرحال ایک پریشانی کی خبر تھی۔
بات چیت میں نرم گو اور گپ شپ لگانے والے ابو بکر تسلیم کرتے ہیں کہ گذشتہ کئی برسوں میں ان کی جماعت کچھ ایسے لوگوں کے لیے بھی پرکشش بن گئی ہے جو ان کی سیاست سے میل نہیں کھاتے۔ ان کے بقول اس کی وجہ وہ پیشہ ورانہ خطرہ ہے جو کسی بھی ایسے شخص کو درپیش ہوتا ہے جو کسی ایسے علاقے میں کام کرتا ہے جہاں غنڈہ گردی عام ہو اور آپ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو راہ سے قدرے بھٹک چکے ہوتے ہیں۔
لیکن ابو بکر کا اصرار ہے کہ خود انھوں نے نہ کبھی کسی کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ جائے اور دولت اسلامیہ میں شامل ہو جائے اور نہ کبھی کریں گے۔
'ہم نے اپنے پیروکاروں کو بتا دیا ہے کہ وہ وہاں نہ جائیں، دولت اسلامیہ کا پورا خیال ہی نہایت احمقانہ ہے۔'
’لیکن ابوبکر کی پریشانی شام کی جنگ نہیں ہے، بلکہ ان کو فکر اس لڑائی کی ہے جو ٹرینیڈاڈ کی گلیوں میں لڑی جا رہی ہے۔ پچھلے صرف ایک سال میں ملک میں پانچ سو قتل ہوئے، جو کہ گذشتہ بیس برس پہلے کی نسبت چار گنا زیادہ تھے۔ ان میں زیادہ تر قتل کا تعلق ملک کے غریب علاقوں میں مختلف گروہوں کی لڑائی سے تھا، اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں سے جماعت المسلمین کے پیروکاروں کا تعلق ہے۔
اس حوالے سے ابو بکر کہتے ہیں کہ 'عمومی طور پر یہ گروہ اب بھی ہماری عزت کرتے ہیں، لیکن اب اگر ہم ان پر پولیس کی طرح براہ راست ہاتھ ڈالتے ہیں تو ریاست ہم پر بری طرح ٹوٹ پڑے گی۔ اسی لیے اب حالات بہت خراب ہو رہے ہیں اور روزانہ دو تین قتل ہو رہے ہیں۔ اب ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشا تو نہیں دیکھ سکتے۔'
لگتا ہے کہ ابوبکر دوبارہ تختہ الٹنے کا نہیں سوچ رہے، لیکن ٹرینیڈاڈ کے موجودہ مسائل کا جو تجزیہ ان کی جماعت کرتی ہے وہ ایسا ہی جو کوئی بھی قدامت پسند کرتا ہے۔
یہ لوگ صرف غربت کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے، بلکہ ان کے خیال میں حالات کی خرابی کی وجہ خاندانی نظام کا ٹوٹ جانا، نوجوانوں میں ڈسپلن کی کمی اور وہ انداز زندگی بھی ہے جس کا پرچار گینسگٹرز اور ان کے پسندیدہ ریپ میوزک والے کرتے ہیں۔
اس حوالے سے جماعت کے ایک اور رکن ڈیوڈ بفی میلارڈ کہتے ہیں کہ 'ان لوگوں کو راہ سے بھٹکے ہوئے ریپ آرٹسٹوں اور موسیقاروں کی بجائے اچھے ہیروز کی ضرورت ہے۔ ان کے کچھ گانے ایسے ہوتے ہیں جن سے کوئی بھی قتل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جس طرح بندوق ہاتھ میں آنے سے۔'
میلارڈ کا اس موضوع پر بات کرنا بنتا ہے، کیونکہ وہ ایسے معاملات کو خوب جانتے ہیں۔ ماضی میں وہ خود بھی ایک مجرم تھے اور ایک دفعہ تو جمیکا کے اس منشیات سمگل کرنے والے گروہ کا حصہ بھی تھے جو منشیات امریکی ریاست میامی بھیج رہا تھا۔ یہ لوگ نہ صرف منشیات فروخت کر رہے تھے، بلکہ دوسرے ڈیلروں کو بھی لُوٹ رہے تھے۔ نرم ترین الفاظ میں آپ اسے ایک انتہائی خطرناک پیشہ کہہ سکتے ہیں، جس کے دوران میلارڈ کو تین مرتبہ گولی لگی، پانچ مرتبہ چاقو کے زخم کھانے پڑے اور کئی مرتبہ جیل کی ہوا بھی۔
اب سدھر جانے کے بعد، میلارڈ کہتے ہیں کہ ٹرینیڈاڈ کو دولت اسلامیہ سے بڑا خطرہ غنڈہ گردی اور گینگسٹرز سے ہے کیونکہ ' یہ غنڈہ گردی والی سوچ جڑیں پکڑ چکی ہے۔ آپ اس دولت کا کبھی بھی مقابلہ نہیں کر سکتے جو آپ منشیات فروشی سے کما سکتے ہیں، آپ ایسے لوگوں کو عزتِ نفس ہی دے سکتے ہیں۔ میرا انتخاب اسلام تھا، لیکن عزتِ نفس کے اور بھی راستے ہو سکتے ہیں۔'
کیا واقعی کوئی اور راستہ ہے؟
ٹرینیڈاڈ کے ہی 'سی لوٹس' کے علاقے میں جہاں کہتے ہیں کہ اس نے اب غنڈہ گردی اور گینگ کلچر کے ماضی سے دامن چھڑایا جا رہا ہے، وہاں کے ایک کمیونٹی لیڈر نے مجھے بتایا کہ اِس علاقے کی شہرت ایسی رہی ہے کہ اب بھی یہاں کے نوجوانوں کو ملازمت ملنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جب تک اِن صاحب کی بات سچ ہے، مجھے لگتا ہے کہ ٹرینیڈاڈ میں جرائم کا مسئلہ اپنی جگہ پر رہے گا اور کئی لوگ ہر جمعے کی نماز کے بعد یاسین ابوبکر سے ملاقات کے لیے قطار میں لگتے رہیں گے۔.