آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو: ’شام سے ایک ایک ایرانی جنگجو کو نکال باہر کیا جائے گا‘
امریکہ کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ’ہر ایک ایرانی جنگجو کو شام سے نکال باہر کریں گے‘۔
مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ جب تک شامی صدر بشار الاسد کے زیر کنٹرول علاقوں سے ایرانی اور اس کے لیے بر سرپیکار قوتیں نکل نہیں جاتیں اس وقت تک امریکہ ان علاقوں کے لیے از سر نو تعمیر کے لیے امداد نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’سنگین غلطیاں‘ کیں۔
انھوں نے قاہرہ میں یہ خطاب صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے تین ہفتے بعد کیا ہے جس میں صدر کا کہنا تھا کہ وہ شام سے امریکی افواج نکال لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے امریکی اتحادیوں کو پریشان کر دیا تھا اور واشنگٹن پر سخت تنقید کی گئی تھی۔
مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا ’شدت پسندی کے خلاف جنگ ختم ہونے تک امریکہ اپنی فوج نہیں نکالے گا۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ، القاعدہ اور دیگر جہادیوں کو شکست دینے کے لیے بھرپور محنت کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ ’اچھائی کی قوت ہے اور امریکہ جہاں سے نکلتا ہے وہاں افراتفری پھیل جاتی ہے‘۔
مائیک پومپیو نے ایران کا ذکر کیوں کیا؟
شام میں جاری خانہ جنگی میں ایران روس کے ساتھ مل کر شامی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے جس میں ہتھیار مہیہ کرنا، ملٹری مشیر اور اطلاعات کے مطابق جنگجو دستے بھی شامل ہیں۔
امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ایران کے کردار پر شدید تشویش ہے اور اس کا موقف ہے کہ ایران خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔
مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں ’تاریخ کی سخت ترین پابندیں ہیں اور ان میں مزید سختی ہو گی۔‘
شام میں امریکہ کا کتنا عمل دخل ہے؟
امریکہ ترکی، عرب ریاستوں اور اردن کے ساتھ مل کر بعض باغی گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
تقریباً 2000 امریکی فوجی شام میں موجود ہیں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
دسمبر میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ شام سے اپنی فوج کو اس لیے نکال رہے ہیں کیوں کہ دولت اسلامیہ کو ’شکست‘ دی جا چکی ہے۔
اس اعلان کے بعد امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے اور امریکی حکام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔