صحرائے سینا کی سیر تصاویر میں

صحرا سینا کے 770 کلومیٹر ٹریل کی سیر

سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنابتدا میں سینا ٹریل 220 کلومیٹر طویل تھی جس کو طے کرنے کے لیے 12 روز لگتے تھے۔ اس ٹریل پر تین بدو قبیلے رہتے ہیں۔ اس ٹریل کو 2015 میں کھولا گیا تھا اور یہ خليج العقبہ سے مصر کی بلند ترین پہاڑی جبل کاثرین تک جاتی ہے۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنسینا ٹریل پر جبل کاثرین کا سایہ ہے۔ مسیحی روایات کے مطابق فرشتے سینٹ کیتھرین کی لاش اس پہاڑی پر لے گئے جب ان کو سلطنت روم نے قتل کیا۔ آج اس پہاڑی کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا گرجا گھر بھی ہے۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنسینا میں ٹریل کرنے والے افریقہ کے پیچھے آفتاب کو غروب ہونے کا نظارہ کر سکتے ہیں اور اگلے روز ایشیا سے آفتاب کو طلوع ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشناس سال اس ٹریل میں مزید 550 کلومیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے یعنی اب اس کو مکمل کرنے میں 42 روز لگتے ہیں۔ اس اضافے کے باعث پانچ مزید بدو قبیلوں کا علاقہ بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ قبیلوں کو سیاحت سے محروم رکھا گیا گیا ہے لیکن اب یہ ٹریل ان کی آمدن کا نیا ذریعہ بن گیا ہے۔
صحرائے سینا کا نقشہ
،تصویر کا کیپشن440 کلومیٹر طویل راستے کا نقشہ
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنیہ ٹریل سینا کے خوبصورت ترین مقامات پر لے جاتا ہے اور اس ٹریل کے ذریعے یہ مقامات دنیا کے لیے کھل گئے ہیں۔ اس ٹریل سے اس تاثر کو بھی زائل کیا جا رہا ہے کہ سینا دہشت گردی کی زد میں ہے۔ زیادہ تر شدت پسندوں کے حملے شمالی سینا میں ہوئے ہیں جو ایک فوجی زون ہے۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنمزینہ اور علیگت قبیلے لوگ سورج سے بچنے کے لیے غار میں بیٹھے ہیں۔ آٹھ قبیلوں سے 50 افراد سینا ٹریل پر خانسامے، گائیڈ، میزبان اور تاجر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہWael Hussein Al Sayed

،تصویر کا کیپشنقبیلوں کے نوجوان اپنے بڑوں کے ساتھ آتے ہیں اور ٹریل کے روٹ، پانی کے ذخائر، جگہوں کے نام، علاقے کی کہانیاں اور وہ تمام چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کو آنی چاہییں تاکہ وہ لوگوں کی رہنمائی کر سکیں۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہNour el Din Sherif

،تصویر کا کیپشنتین سال قبل کھلنے والی ٹریل پر اب تک مصر اور دیگر ممالک سے 500 افراد سفر کر چکے ہیں۔ اس تصویر میں چند افراد جبل موسیٰ سے گزر رہے ہیں جو یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہWael Hussein Al Sayed

،تصویر کا کیپشنجبلیا قبیلے کے گائیڈ ناصر منصور سیاحوں کو پہاڑ اور علاقے میں اگنے والے پودوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہWael Hussein Al Sayed

،تصویر کا کیپشنجنوبی سینا کے دو قبیلے گراشا اور علیگت مل کر ٹریل پر کام کرتے ہیں۔
سینائی

،تصویر کا ذریعہWael Hussein Al Sayed

،تصویر کا کیپشنقبیلے کے لوگوں کا اپنے اونٹوں کے ساتھ خاص روابط ہوتے ہیں۔