عھد تمیمی: فلسطینی مزاحمت کی علامت

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی 17 سالہ فلسطینی لڑکی عھد تمیمی کو آٹھ ماہ قید کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی 17 سالہ فلسطینی لڑکی عھد تمیمی کو آٹھ ماہ قید کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننبی صالع نامی علاقے میں عھد تمیمی نے ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارا تھا۔ عھد تمیمی پر 12 الزامات لگے تھے جن میں سے چار میں وہ قصور وار قرار پائی گئیں۔ ان میں اشتعال انگیزی کا الزام بھی شامل تھا۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ یہ واقعہ 15 دسمبر سنہ 2017 کو پیش آیا تھا اور اس وقت عھد تمیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔ انھیں اپنے گھر کے باہر ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے، اس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعھد تمیمی رہائی کے بعد اپنی والدہ اور بھائی کے ہمراہ۔ انھیں آٹھ ماہ قید اور5000 شیکلز ($1,440) جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعھد تمیمی رہائی کے بعد اپنی کزن کے ہمراہ۔ ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئیں۔ سزا میں وہ وقت شامل تھا جو انھوں نے مقدمے کے فیصلے سے قبل زیرحراست گزارا تھا۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفلسطینیوں کے لیے عھد تمیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئیں جبکہ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد انسان سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعھد تمیمی نے رہائی کے بعد سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کی قبر پر حاضری دی۔ اس مقدمے کی سماعت کا آغاز بند کمرے میں 13 فروری کو مقبوضہ غرب اردن میں اوفر فوجی عدالت میں ہوا تھا۔ ان کی وکیل نے اس مقدمے کے لیے اوپن ٹرائل کی درخواست کی تھی تاہم جج کی جانب سے ’کم سن کے مفاد میں‘ سماعت ’ان کیمرہ‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔
عھد

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفلسھینی صدر محمود عباس رہائی پانے والی17 سالہ فلسطینی عھد تمیمی کا استقبال کر رہے ہیں۔ عھد تمیمی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن انھوں نے ان فوجیوں کی جانب سے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔
عھد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے فوجیوں کو عھد تمیمی کے گھر اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔