سعودی خاتون ڈرائیورز: ’گاڑی چلانا میرا بچپن کا خواب تھا‘

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد امل نے بطور ٹیکسی ڈرائیور کام شروع کیا ہے۔ ماضی میں یہاں خواتین کی ڈرائیونگ پچھلی تین دہائیوں سے ایک جرم سمجھی جاتی تھی، تین برس قبل ایک عورت کو 70 دن تک جیل میں اس لیے ڈالا گیا کیونکہ اس نے علامتی احتجاج کے طور پر گاڑی چلائی۔

دو بچوں کی والدہ امل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گاڑی چلانا ان کا بچپن کا خواب تھا اور اب وہ دیگر خواتین کے لیے رول ماڈل بننا چاہتی ہیں۔ حمیرا کنول کی رپورٹ۔