ترکی میں طیب اردوغان کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کا جشن

صدرطیب اردوغان کا صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرنے کے بعد ان کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ پہلے مرحلے میں باآسانی جیت گئے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ان کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے
ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرکاری میڈیا کے مطابق طیب اردوغان کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف محرم انسے کو 31 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتاہم حزب اختلاف نے صدر اردوغان کے اعلان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی بہت سارے ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔
ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس انتخاب میں صدر رجب طیب اردوغان کو دوسری مرتبہ پانچ سال کے لیے صدر بننے یا نہ بننے کا فیصلہ ہونا تھا۔
ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر رجب طیب اردوغان نے اپنی فتح کے اعلان کے ساتھ پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت اے کے پارٹی کی پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ترک انتخابات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدارتی انتخابات کے علاوہ ترکی میں پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ابھی تک گنے گئے 96 فیصد ووٹوں میں صدر کی اے کے پارٹی 43 فیصد ووٹوں سے آگے ہے، جبکہ اہم حزبِ اختلاف کی پارٹی سی پی ایچ کے پاس 23ووٹ ہیں۔