نتن یاہو:’الزامات بےبنیاد ہیں یقین ہے سچائی سامنے آئے گی‘

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے رشوت ستانی کے معاملے میں ان پر ممکنہ طور پر مقدمہ چلانے کے بارے میں پولیس کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان الزامات کو 'بے بنیاد' قرار دیا ہے اور اپنے عہدے پر قائم رہنے کا عہد کیا ہے۔
بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ سچائی سامنے آئے گی۔
ان کا یہ بیان پولیس کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں پولیس نے کہا ہے کہ ان کے خلاف اتنے شواہد ہیں کہ انھیں رشوت، فراڈ اور خیانت کے دو مختلف معاملوں میں مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا۔
لیکن نتن یاہو نے کہا کہ تمام الزامات بےکار ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے منگل کو الزامات کے سامنے آنے کے فوراً کہا: 'میں اسرائیل کی ذمہ دارانہ اور وفادارانہ طور پر اس وقت تک قیادت کرتا رہوں گا جب تک اسرائیلی عوام ہمیں اپنی قیادت کے لیے منتخب کرتی رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'مجھے یقین ہے کہ خدا کی مدد سے آئندہ انتخابات تک میں آپ کا اعتماد حاصل کر لوں گا اور یہ انتخابات وقت پر ہوں گے۔'
68 سالہ رہنما ملک کی قیادت کے اپنے دوسرے دور میں ہیں اور انھوں نے کل ملا کر 12 سال ملک کی قیادت کی ہے۔
اپنے خطاب میں انھوں نے کہا: 'کئی برسوں کے دوران میرے خلاف کم از کم 15 مرتبہ تحقیقات اور تفتیش ہو چکی ہے۔ ان میں سے کئی پولیس کی صلاح پر کی گئی تھی جیسی کہ آج کی رات والی۔ اس طرح کے تمام اقدامات کا کوئي نتیجہ برامد نہیں ہوا اور اس بار بھی کچھ سامنے نہیں آئے گا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک معاملے میں ان پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیلی اخبار 'یوڈیوٹ اہارونوٹ' کو مثبت کوریج کے لیے کہا تھا اور جواب میں اس کے مخالف اخبار پر قدغن لگانے کی بات کہی تھی۔
پولیس نے کہا کہ اخبار یوڈیوٹ اہارونوٹ کے مدیر آرنن موزس پر بھی مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
دوسرا معاملہ ہالی وڈ کے معروف فلمساز آرنن ملچین اور دوسرے حامیوں کی جانب سے انھیں لاکھوں شییکلز (دو لاکھ 83 ہزار امریکی ڈالر) کے تحائف لینے کا الزام ہے۔
یروشلم پوسٹ نے کہا ان تحائف میں شیمپین اور سگار بھی شامل ہیں اور یہ آرنن ملچین کو امریکی ویزا دیے جانے کے بدلے میں ملے ہیں۔
پولیس کے مطابق 'فائٹ کلب'، 'گون گرل' اور 'ریورینٹ' جیسی فلم کے فلمساز مسٹر ملچین کے خلاف بھی مقدمہ چلے گا۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحائف حاصل کرنے کے بعد بن یامین تن یاہو نے 'ملچین قانون' کی حمایت کی جس کے مطابق جو اسرائیلی بیرون سے اسرائیل میں رہنے کے لیے آئے ہیں انھیں دس سال تک ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی حاصل ہوگا۔
لیکن اس تجویز کو وزارت معیشت نے بالآخر روک دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نتن یاہو پر آسٹریلین ارب پتی جیمز پیکر کے معاملے میں فراڈ اور خیانت کا شبہ ہے۔








