’وقت نے کیا کیا حسیں ستم‘

وقت کیسے ہر چیز کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے: تصویری مناظر

کمرہ

،تصویر کا ذریعہAdam X

،تصویر کا کیپشنیہ جنوبی انگلینڈ کا ایک یتیم خانہ ہے جو اب زیر استعمال نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں اب بھی بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
مشروم، کمبیاں

،تصویر کا ذریعہAnne Patchell

،تصویر کا کیپشنسفیدے کے اس خراب ہوتے ہوئے درخت پر سالہا سال کھمبیاں اگتی رہیں یہاں تک کہ یہ رواں موسم گرما میں زمین بوس ہو گیا۔
ٹیلی ویژن

،تصویر کا ذریعہJoshua Polson

،تصویر کا کیپشنامریکی ریاست کولوراڈو میں اس فارم ہاؤس کو بھی اب کوئی استعمال نہیں کرتا۔ یہاں پر فرنیچر کے نام پر صرف ٹیلی ویژن بچا ہے۔ اس فارم ہاؤس کو پڑوسیوں نے خریدا تھا تاکہ وہ پانی کی نکاسی کر سکیں۔
دھات

،تصویر کا ذریعہArun Kumar

،تصویر کا کیپشندھاتی رکاوٹی باڑ اپنی کہانی آپ سنا رہی ہے۔ اس کے برابر میں ایک نئی دھاتی باڑ ہے لیکن پرانی والی زیادہ خوبصورت ہے۔ یہ تصویر برمنگھم میں قائم شیر خوار بچوں کے سکول کی ہے۔
عمارت

،تصویر کا ذریعہSandra Sipka

،تصویر کا کیپشنیہ یادگار کروئیشیا میں کردون اور بنیجا کے درمیان شورش کی علامت ہے۔ اس عمارت سے سٹیل کے سلیب چرا کر انھیں فاضل اشیا کی طرح بیچ دیا گیا ہے۔
کشتی

،تصویر کا ذریعہPaul Tait

،تصویر کا کیپشنووڈبرج کے دریا کنارے موجود اس کشتی پر پڑنے والی صبح کی کرنیں اس دریا کی ان رونقوں کا پتہ دیتی ہیں جو اب اس سے روٹھ گئی ہیں۔
کھنبیاں

،تصویر کا ذریعہjenny downing

،تصویر کا کیپشنہر سال اکتوبر میں ہمارے باغ میں رنگ برنگی پر کشش کھمبیاں اگتی ہیں۔ لیکن انھیں کھولنے پر ان کے اندر سے عجیب و غریب مائع نکلتا ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ سڑ نا شروع ہو گئی ہیں۔
پہیے

،تصویر کا ذریعہPaul Harris

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے ساحلی شہر کوچین میں صنعتی سامان گلنے کے مراحل میں ہے۔ ہم اس پورٹ کا دورہ کیا گیا تو وہاں ایک پرتعیش بحری جہاز لنگر انداز تھا جو اب اپنی تمام کشش کھو چکا تھا۔
کتا

،تصویر کا ذریعہTessa Dessain

،تصویر کا کیپشنجودھ پور انڈیا میں یہ آوارہ کتا سڑتے ہوئے ٹماٹر کھا کر اپنی بھوک مٹا رہا ہے۔
خواتین

،تصویر کا ذریعہBrad Ruxandra

،تصویر کا کیپشنمیری والدہ اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کی وجہ سے شرمندہ رہتی ہیں۔ اس تصویر کے ذریعے میں نے ان کی خوبصورتی اور انفرادیت کی عکاسی کی ہے جس پر وہ شرمندہ رہتی ہیں۔