’ایران نے میزائل تجربہ نہیں کیا‘، ٹرمپ کا جھوٹی خبر پر ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دنوں ایک جھوٹی خبر کا شکار ہوئے جب انھوں نے ایران کے میزائل تجربے کی خبر پر ٹویٹ کی۔
امریکی صدر نے ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک خبر کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ مشرق وسطیٰ میں امریکی حلیف اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔
لیکن امریکی حکام نے فوکس نیوز کو بتایا کہ بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ ویڈیو دراصل سات ماہ پرانی ہے اور ایران نے حال میں کسی میزائل کا تجربہ نہیں کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ویڈیو کے ٹی وی پر چلائے جانے کے بعد ٹویٹ کیا: 'ایران نے ابھی اسرائیل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ یہ اس معاہدے کی پاسداری نہیں جو ہم نے ان سے کی ہے۔'
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی تضحیک کی اور کہا کہ ان کے پیش روؤں نے ایران کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا ہے وہ امریکہ کے لیے 'شرمندگی' کا باعث ہے۔

،تصویر کا ذریعہPRESSTV
انھوں نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: 'ہم ایک قاتل حکومت کو خطرناک میزائل بنانے اور اس قسم کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں جاری نہیں رکھنے دیں گے۔ اور ہم ایسے کسی عہدکے پابند نہیں جس سے کہ بعد میں جوہری پروگرام کی تکمیل ہوتی ہو۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ کہ ان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور اسرائیل جیسے کسی ملک کے لیے وہ خطرہ نہیں ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی تقریر کے ایک روز بعد خطاب کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے کبھی کسی کو نہیں دھمکایا ہے اور ہم کسی کی دھمکی کو برداشت بھی نہیں کریں گے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد امریکہ نے اُس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے میزائل کا تجربہ سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اُس کے میزائل پروگرام کی وجہ سے وہ جوہری معاہدہ ختم کر دیں گے کیونکہ میزائل پروگرام کے ذریعے ایران جوہری ہتھیار لے جانے کی معلومات حاصل کر رہا ہے تاکہ جوہری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ اس پر عمل کر سکے۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین سنہ 2015 میں طے پانا والے جوہری معاہدے کے تحت ایران 2025 تک اپنا جوہری پروگرام منجمد کرنے پر متفق ہوا تھا۔








