ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال

ترکی میں گذشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترک صدر رجب طیب اردوغان نے ہزاروں افراد کے مجمعے سے ایک جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس رات لوگوں کے پاس بندوقیں نہیں تھیں، ان کے پاس پرچم تھے اور اس سے بڑھ کر ان کے پاس ایمان تھا۔‘
ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترکی میں گذشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنترک صدر کا کہنا تھا کہ 250 افرد نے اپنی جانیں گنوائیں لیکن ملک کا مستقبل فتح کر لیا۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس موقعے پر ترک صدر طیب اردوغان نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام عائد کیا۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹے سے بال بال بچا تھا اور آج وہ عین اسی وقت پارلیمان سے خطاب کریں گے جب گذشتہ برس یہ بغاوت ہوئی تھی۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس کے بعد سے حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا ہے اور یہ سلسلہ آج ایک برس پورا ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنناقدین کا کہنا ہے کہ اردوغان اس بغاوت کے بعد ابھرنے والے جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشہ ہفتے لاکھوں افراد نے استنبول میں اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف 450 کلومیٹر طویل 'انصاف مارچ' میں حصہ لیا تھا۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشہ ہفتے لاکھوں افراد نے استنبول میں اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف 450 کلومیٹر طویل 'انصاف مارچ' میں حصہ لیا تھا۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناستنبول میں جگہ جگہ بڑے بورڈ لگے ہیں جن میں لوگوں کو فوج سے نبرد آزما ہوتے دکھایا گیا ہے۔