لندن کے رہائشی ٹاور میں آتشزدگی کی تصاویر

لندن کے مغربی علاقے میں واقع ایک بلند رہائشی ٹاور میں آتشزدگی سے متعدد افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

لندن آگ

،تصویر کا ذریعہAFP/Guilio Thubum

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے دارالحکومت لندن کے فائر چیف کے مطابق شہر کے مغربی علاقے میں واقع ایک بلند رہائشی ٹاور میں آتشزدگی سے متعدد افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہNatalie Oxford/PA

،تصویر کا کیپشنیہ آگ لیٹیمر روڈ پر واقع گرینفل ٹاور میں منگل کی شب سوا ایک بجے لگی اور آگ بجھانے والا عملہ کئی گھنٹے سے اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہReuters/Toby Melville

،تصویر کا کیپشنگرینفل ٹاور میں سینکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں اور واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد افراد کو اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے دیکھا تھا۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہReuters/Toby Melville

،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے عمارت میں ایسی روشنیاں دیکھی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ موبائل فونز اور ٹارچ کی روشنیاں ہو سکتی ہیں اور پھنسے ہوئے افراد کھڑکیوں سے باہر نکل رہے تھے۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہAFP/Natalie Oxford

،تصویر کا کیپشنلندن کے فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق آگ بجھانے کی کوششوں میں 40 فائر انجن اور عملے کے 200ارکان حصہ لے رہے ہیں۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہReuters/Toby Melville

،تصویر کا کیپشنلندن فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام نے ہلاک شدگان کی تعداد تو نہیں بتائی ہے تاہم ان کے مطابق 50 سے زیادہ افراد کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہReuters/Toby Melville

،تصویر کا کیپشنلندن کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبع مقامی وقت کے مطابق 6:15 پر ایمبولینس کے 20 رکنی عملے کو موقع پر بھیجا گیا جبکہ لندن کے میئر صادق خان نے اسے 'بڑا واقعہ' قرار دیا ہے۔
لندن آگ

،تصویر کا ذریعہgetty/Leon Neal

،تصویر کا کیپشنلندن فائر بریگیڈ کے اسسٹنٹ کمشنر ڈین ڈالی کا کہنا ہے کہ 'فائر فائیٹرز بہت مشکل حالات میں آگ پر قابو پانے کا مشکل کام کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا اور سنجیدہ واقعہ ہے اور اس کے لیے ہم نے متعدد ذرائع اور خصوصی آلات کا استعمال کیا ہے۔‘