سویڈن نے اسانج کے خلاف ریپ کی تحقیقات ختم کر دیں

سویڈن کے عوامی استغاثہ کی ڈائریکٹر نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف ریپ کے الزام کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میرین نائی نے سٹاک ہوم کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسانج کی گرفتاری کا وارنٹ منسوخ کر دیا جائے۔

بظاہر اس سے سات سال پر محیط تنازع ختم ہو جائے گا۔

45 سالہ اسانج سویڈن حوالگی سے بچنے کے لیے 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم ہیں۔

انھیں خطرہ ہے کہ اگر انھیں سویڈن بھیج دیا گیا تو وہاں سے انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں ان پر عسکری اور سفارتی نوعیت کی لاکھوں خفیہ دستاویزات افشا کرنے کا الزام میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

سویڈن کے استغاثہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے: 'عوامی استغاثہ کی ڈائریکٹر مسز میرین نائی نے آج فیصلہ کیا ہے کہ جولین اسانج کے خلاف مبینہ ریپ کی تحقیقات ختم کر دی جائیں۔'

اسانج ہمیشہ ریپ کے الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ چھ ماہ قبل لندن میں سویڈش حکام کی موجودگی میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

تاہم اگر وہ سفارت خانے سے باہر نکل آئے تو برطانوی پولیس انھیں پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر سکتی ہے۔

جمعے کو اس خبر کے سامنے آنے کے بعد وکی لیکس نے ٹویٹ کیا کہ 'اب توجہ برطانیہ پر مرکوز ہو گئی ہے۔'

اس کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے 'یہ بات تسلیم کرنے سے نہ تو اقرار کیا ہے نہ انکار کہ ان کے پاس جولین اسانج کی امریکہ ملک بدری کا وارنٹ موجود ہے۔'