سٹریٹ آرٹ جس نے گاؤں کو بدل کر رکھ دیا

سپین میں ایک سٹریٹ آرٹ پراجیکٹ کے باعث گاؤں مکمل بدل گیا اور تین سال بعد فنزارا میں یہ ایک سالانہ فیسٹیول بن گیا ہے۔

سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی سالوں سے سپین کا گاؤں فنزارا کے رہائشیوں میں زہریلے مواد کو ذخیرہ کرنے کے لیے جگہوں کی تعمیر پر تفریق تھی۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس منصوبے کی منظوری میں دائیں بازو کی جماعت کو کامیابی نہ ہوئی اور وہ 2011 کے انتخابات بھی ہار گئی۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلیکن اس حوالے سے کشیدگی برقرار رہی اور اس ایشو پر مختلف رائے رکھنے والے میل جول بھی نہیں رکھتے تھے۔ اس منصوبے کے حامی گاؤں کے بالائی حصے میں واقع بار میں شراب نوشی کرتے تھے جبکہ اس منصوبے کے مخالفین گاؤں کے نچلے حصے میں قائم بار جاتے تھے۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں گاؤں کی کونسل نے رہائشیوں اور سٹریٹ آرٹسٹس کو دیواروں پر نقاشی کے لیے مدعو کیا۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق کونسلر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’ہم نے آرٹس اور ثقافتی پراجیکٹ کے بارے میں سوچا جس میں سب حصہ لے سکیں اور گاؤں کے رہائشیوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکیں۔‘
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس پراجیکٹ کے باعث گاؤں مکمل بدل گیا اور تین سال بعد فنزارا میں یہ ایک سالانہ فیسٹیول بن گیا ہے۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس گاؤں میں اس وقت دیوراوں پر 105 نقاشی ہوئی ہیں اور اس سال چھ سے نو جولائی کو ہونے والے فیسٹیول کے لیے دنیا بھر سے 200 آرٹسٹس نے حصہ لینے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔
سپین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن2015 سے اب تک 2300 سکول کے بچوں نے ان گلیوں کا دورہ کیا ہے۔