آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یمن میں شہری ہلاکتیں: امریکہ کا سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت محدود کرنے کا اعلان
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یمن میں فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے خدشاتکی بنا پر سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت محدود کر دے گا۔
پیٹاگون کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اب گائیڈڈ ہتھیار (پی جی ایم) مہیا نہیں کیے جائیں گے۔
صدر براک اوباما کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جس انداز میں فضائی حملے کیے گئے ان میں ’خرابیوں‘ پر انھیں خدشات ہیں۔
اکتوبر میں ایک شادی کی تقریب پر فضائی حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد یمن ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف وہاں کی منتخب حکومت کی مدد کر رہا ہے اور اس حملے کا الزام سعودی اتحاد پر عائد کیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ امریکی کا سکیورٹی تعاون ’خالی چیک نہیں ہے۔‘
پینٹاگون اہلکار کے مطابق سعودی عرب کی فضائی کارروائیوں میں شامل پائلٹوں کو تربیت فراہم کرے گا تاہم کم سے کم عام شہری متاثر ہو سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ دیگر متوقع عسکری معاہدوں میں 3 ارب ڈالر پر مشتمل فوجی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔
یمن میں سنہ 2014 سے جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور 30 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ عبدالربہ منصور ہادی کی حکومت ملک چھوڑ چکی ہے۔ تاہم کچھ وزرا اس وقت سے عدن شہر واپس آ چکے ہیں۔
سعودی عرب بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب برتنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔