کیمرے کی آنکھ سے لندن کا تنوع عکس بند کرنے کی ایک کوشش۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں واقع ’باپس شری سوامی نارائن‘ مندر کو بھارت کے باہر دنیا کا سب سے بڑا ہندو مندر کہا جاتا ہے۔ اس مندر کی تعمیر کا کام سنہ 1995 میں مکمل ہوا تھا اور اس پر ایک کروڑ بیس لاکھ پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔ (تصاویر: اطہر کاظمی)
،تصویر کا کیپشنلندن پریڈ گروانڈ کے باہر تعینات ہاوس ہولڈ کیولری کا ایک سپاہی۔ برطانوی فوج کی اس یونٹ کو کوئنز گارڈز بھی کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن’سری گرو سنگھ سباح‘ لندن کا سب سے بڑا گردوارہ ہے۔ 2003 میں کھلنے والے اس گرداوارے کی تعمیر پر ایک کروڑ ستر لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ لاگت آئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنلندن کا شمار دنیا کے ان چند شہروں میں ہوتا ہے جہاں آپ کو کسی بھی ملک کی سوغات مل سکتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس شہر میں ہر شعبہ زندگی میں نسلی تنوع واضح ہے۔
،تصویر کا کیپشنہر سال محرم میں لندن کے کئی علاقوں میں واقع امام بارگاہوں سے عاشورہ کے جلوس برآمد ہوتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلندن کو برطانیہ کے ساتھ دنیا کا ثقافتی مرکز بھی کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلندن کی مختلف شاہراہوں اور بازاروں میں دنیا بھر کے ثقافتی رنگ بکھرے نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس شہر میں قدیم اور جدید طرز تعمیر کا امتزاج نظر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں پاکستانی اور ایشائی کھانوں کے ریستوران جا بجا نظر آتے ہیں وہ روائتی کھانوں کے ساتھ اپنی ثقافت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلندن کا ’ویسٹ اینڈ سنیگاگ‘ 1879 میں کھولا گیا۔ اس کا شمار برطانیہ کی قدیم ترین یہودی عبادت گاہوں میں ہوتا ہے۔