ترکی میں بچوں کے ریپ سے متعلق قانون کے خلاف مظاہرے

استنبول سمیت ترکی کے کئی شہروں میں ریپ سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنترکی میں ہزاروں افراد نے اس مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کیا جس کے مطابق کم سن لڑکی کا ریپ کرنے والا شخص اگر اس لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو وہ سزا سے بچ جائے گا۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناستنبول میں ہزاروں افراد نے مظاہروں میں شرکت کی جن کا کہنا تھا کہ ایک ریپ کی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی
ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کے ریپ کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے احتجاج کے دوران تالیاں بجاتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔‘
ترکی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانقرہ، ازمیر اور تربزن سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے اے کے پی کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ اے کے پی صدر طیب اردوغان کی جماعت ہے جس نے یہ بل پیش کیا ہے۔
ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخواتین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ’ریپ ایک جرم ہے۔‘