موصل میں فوجی کارروائی جاری

عراق کے شہر موصل کو دولت اسلامیہ کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے۔

موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے موصل میں جاری آپریشن سے حکومتی توجہ ہٹانے کے لیے مغربی صوبے انبار میں تازہ حملے کیے ہیں۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرطبہ قصبے کے میئر نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے اُن کے علاقے میں تین جانب سے ’خطرناک‘ حملے کیے ہیں۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیئر عماد میسل کا کہنا ہے کہ علاقے میں حکومتی افواج اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندوسری جانب کرد پیش مرگہ نے موصل میں دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں اُن پر حملہ کیا ہے۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل حکومت اور کرد افواج نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے مشترکہ آپریشن شروع کیا تھا۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنموصل میں حکومتی آپریشن کے بعد سے دولتِ اسلامیہ پر دباؤ بڑھا ہے جس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے کئی علاقوں میں خودکش حملے کیے ہیں۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس سے پہلے جمعے کو دولتِ اسلامیہ نے موصل سے 170 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کرکوک میں حملہ کیا جس میں 35 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوئے تھے۔
موصل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمشرق وسطیٰ کے اُمور پر بی بی سی کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ رطبہ پر ہونے والا حملے عراق کے شام سے متصل سرحد سے 150 کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے اس لیے اس حملے سے موصل میں جاری آپریشن متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔