عراقی فوج کی موصل کے لیے جنگ

عراق میں حکومتی افواج اور ان کے اتحادیوں کی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ملک میں آخری گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل کی جانب پیش قدمی دوسرے دن بھی جاری ہے۔

عراق، فوج

،تصویر کا ذریعہHuw Evans picture agency

،تصویر کا کیپشنعراق میں حکومتی افواج اور ان کے اتحادیوں کی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ملک میں آخری گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل کی جانب پیش قدمی دوسرے دن بھی جاری ہے۔
عراق، موصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ موصل کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کی لڑائی کے آغاز کے پہلے روز عراقی فوج نے توقعات سے تیز پیش قدمی کی ہے۔
عراق، فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتاہم پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کُک نے خبردار کیا کہ اس کارروائی میں 'وقت لگ سکتا ہے،' اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا دولتِ اسلامیہ 'مقابلہ کرے گی یا نہیں۔'
عراق، موصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعراقی افواج کے ہمراہ موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج موصل کے جنوبی مضافات سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔
عراق، فوج، موصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اتحادی افواج کے طیاروں نے دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں پر بمباری بھی کی ہے۔
عراق، موصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنادھر دولتِ اسلامیہ نے ایک پروپیگنڈا ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ موصل میں شہری فوجی کارروائی کی خبروں سے قطع نظر روزمرہ کے معمولاتِ زندگی میں مصروف ہیں۔