یمن میں جنازے پر حملے کے بعد تباہی کے مناظر

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک جنازے کے اجتماع پرفضائی حملہ کیا گیا ہے جس میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک باغی رہنما کے والد کے جنازے کے اجتماع پر فضائی حملہ ہوا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیمن میں اقوامِ متحدہ کے سینئر اہلکار جیمی میکگولرک نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اسے ہولناک قرار دیا ہے۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنباغی حکام نے نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی ہے جو اتحادی فوج کی مدد سے ایک سال سے زائد عرصے سے شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے تاہم سعودی اتحاد کی جانب سے اس الزام کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیمن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی پالیسی کو بھی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجنازے کی رسومات ایک ہال میں ادا کی جا رہی تھیں جب یہ فضائی حملہ کیا گیا۔ اس ہال کے اندر اور باہر انسانی اعضا بکھرے پڑے ہیں۔
یمن حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمغربی صوبے حدیدہ کے علاقے باجل میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس نے 300 کفن تیار کر لیے ہیں۔
یمن میں جنازے پر فضائي حملہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق مارچ میں سعودی عرب کی اتحادی فوج کی جانب سے فضائی کارروائیوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔