گھپ اندھیرے میں امید کی ایک کرن

سرفراز احمد ون ڈے سیریز میں پاکستان کے لیے ٹاپ سکورر رہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسرفراز احمد ون ڈے سیریز میں پاکستان کے لیے ٹاپ سکورر رہے
    • مصنف, احمر نقوی
    • عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار

اور پھر گھپ اندھیرے میں امید کی ایک کرن دکھائی دی۔ یہ امید بہت زیادہ نہیں اور نہ ہی یہ کسی درخشاں مستقبل کی نوید ہے مگر کم از کم اس سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

اگر ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کو وزن کم کرنے کی کوشش میں مصروف شخص سمجھ لیں تو انگلینڈ کے خلاف آخری ایک روزہ میچ وہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کے وزن میں کچھ کمی کی تعریف کی ہو۔

15 برس میں پہلی بار پانچ صفر کے کلین سویپ کی تمنا لیے انگلش ٹیم نے سیریز کے آخری میچ میں کئی تبدیلیاں کیں اور جہاں بولنگ کے شعبے میں کئی نئی غیرمعروف چہرے نظر آئے وہیں بیٹنگ کا شعبہ بھی معمول کے مقابلے میں کمزور تھا۔

تاہم پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ایسا لگا کہ انگلش ٹیم کو وہ پلیٹ فارم مل گیا ہے جو ایک بڑا مجموعہ تشکیل دینے کے لیے درکار ہوتا ہے تاہم پاکستان کے عمدہ ’فائٹ بیک‘ نے انھیں 302 رنز تک ہی محدود رکھا۔

پاکستان کے لیے جہاں نئے کھلاڑی حسن علی نے متاثر کیا وہیں میدان میں اظہر علی کی کپتانی متاثر کن سے کہیں دور تھی۔ ان کے زیادہ تر اقدامات کسی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ میچ کی صورتحال کا ردعمل تھے۔

حسبِ معمول جب بات بلے بازی کی آئی تو اظہر زیادہ پراعتماد دکھائی دیے لیکن وہ ان تین ابتدائی بلے بازوں میں تھے جو اننگز کے آغاز میں لاپرواہی سے کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔

شعیب ملک انگلینڈ میں 15 برس کے دوران کرکٹ کھیلتے ہوئے پہلی بار نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشعیب ملک انگلینڈ میں 15 برس کے دوران کرکٹ کھیلتے ہوئے پہلی بار نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے

یہی وہ وقت تھا جب سرفراز احمد اور شعیب ملک کی شراکت کی شکل میں امید کی کرن چمکی۔

شعیب ملک کی اننگز اگرچہ سست تھی تاہم وہ انگلینڈ میں 15 برس کے دوران کرکٹ کھیلتے ہوئے پہلی بار نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے لیکن حقیقت میں قابلِ دید اننگز سرفراز کی تھی۔

وہ دس رنز کی کمی سے سنچری تو نہ بنا پائے لیکن یہ بات کسی بھی طرح سے ان کی اننگز کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔

سٹرائیک کی مسلسل تبدیلی اور وکٹوں کے درمیان تیز رننگ کی بدولت سرفراز کو سکور آگے بڑھانے کے لیے باؤنڈریز کی ضرورت نہیں تھی تاہم اس کے باوجود وہ موقع ملنے پر وہ بھی حاصل کرتے رہے اور پھر اپنی اننگز کے اختتام کے قریب ان کے جارحانہ انداز نے انگلش مزاحمت کی کمر توڑ دی۔

ان کے اس جارحانہ انداز نے یہ بھی یقینی بنا دیا کہ پاکستان کے لوئر آرڈر پر کوئی دباؤ نہ ہو اور وہ باری آنے پر مطلوبہ رنز باآسانی حاصل کر سکیں۔

یہ خیال درست نہیں کہ اس میچ میں کارکردگی کا مطلب پاکستانی ٹیم اس طرز کی کرکٹ کے لیے فارم میں آ گئی ہے۔

ابھی اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت سی منزلیں باقی ہیں اور یہ کارکردگی صرف یہ امید دلاتی ہے کہ ٹیم ویسے کھیلنے لگی ہے جیسے کہ دنیا کی باقی ٹیمیں طویل عرصے سے کھیل رہی ہیں۔

تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ اس مقام تک پہنچنا بھی آسان نہیں تھا اور اس پر چھوٹا موٹا جشن تو بنتا ہی ہے۔