
بھارتی کرکٹ ٹیم میں کپتان مہندر سنگھ دھونی اور وریندر سہواگ کے درمیان سرد تعلقات کی خبریں کافی عرصے سے منظر عام پر آتی رہی ہیں۔
دو ہزار نو کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جب بھارتی میڈیا نے اس کا چرچا کیا تو مہندر سنگھ دھونی اسے غلط ثابت کرنے کے لئے پوری ٹیم کو پریس کانفرنس میں لے آئے تھے ۔
اس معاملے نے بھارتی ذرائع ابلاغ کو کافی عرصے ایک موضوع فراہم کر رکھا ہے اور اسے جب بھی موقع ملتا ہے وہ بھارتی کپتان سے اس معاملے پر بالواسطہ یا بلاواسطہ سوالات کرکے ان سے کسی جذباتی جواب کی توقع کی جاتی ہے لیکن دھونی کو صرف حریف بیٹسمینوں کی گیندوں کا اعتماد سے سامنا کرنا ہی نہیں آتا صحافیوں کے وار جھیلنا بھی خوب آتا ہے۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھی مہندر سنگھ دھونی سے یہ سوال پوچھا گیاکہ آپ کو کپتانی سنبھالے پانچ سال ہوچکے ہیں فیلڈ کے باہر کے معاملات سے نمٹنا آپ کے لئے کتنا اہم رہا ہے۔
یہ سوال کرکے جیسے گیند مہندر سنگھ دھونی کے کورٹ میں اچھال دی گئی کہ وہ اس پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے ایک ایک لفظ کو سوچ سمجھ کر جواب دیتے ہوئے بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ کتنی ہم آہنگی ہونی چاہئے اور کرکٹ پر ہی توجہ ہونی چاہئے ناکہ دوسری چیزوں پر۔
پھر ایک اور سوال آیا جس پر مہندر سنگھ دھونی کا کہنا تھا کہ جب وہ میچز کھیل رہے ہوتے ہیں تو نہ اخبار پڑھتے ہیں نہ نیوز چینلز دیکھتے ہیں اور نہ ہی موبائل فون۔ان کی توجہ صرف کرکٹ ہی پر ہوتی ہے۔
بھارتی میڈیا میں اب اس بات کے چرچے ہیں کہ مہندر سنگھ دھونی ٹیم میں اپنی بالادستی کے لئے سینئرز کو ایک ایک کرکے باہر کراتے جارہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ رائے متفقہ نہیں اور دھونی کی حمایت میں بولنے والے بھی موجود ہیں۔
وریندرسہواگ سے دھونی کے اختلافات جیسے بھی ہوں لیکن یہ بات طے ہے کہ دھونی کی مقناطیسی شخصیت بھارتی کرکٹ میں اسوقت بہت معنی رکھتی ہے سوروگنگولی کے جانے کے بعد سے انہوں نے ٹیم کو جس طرح جیت کی راہ پر لگائے رکھا ہے اس میں کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی قائدانہ خصوصیت کا حصہ کسی طور کم نہیں۔






























