
اپنے درست فیصلوں کے سبب سائمن ٹافل دنیا کے ہر کرکٹر کی نظر میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں
آسٹریلوی امپائر سائمن ٹافل نے سری لنکا میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اختتام پر بین الاقوامی امپائرنگ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد وہ آئی سی سی کے امپائر پرفارمنس اینڈ ٹریننگ مینجر کی ذمہ داری سنبھالنے والے ہیں۔
سائمن ٹافل کو پاکستان کے علیم ڈار کے ساتھ اس وقت دنیا کا بہترین امپائر قرار دیا جاتا ہے۔ وہ آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ مسلسل پانچ سال جیت چکے ہیں۔
سائمن ٹافل کا بین الاقوامی امپائرنگ کیریئر دس سال پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے چوہتر ٹیسٹ اور ایک سو چوہتر ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کی۔
وہ اپنے درست فیصلوں کے سبب دنیا کے ہر کرکٹر کی نظر میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
اکتالیس سالہ سائمن ٹافل نے گزشتہ سال ورلڈ کپ کے فائنل کے علاوہ دو ہزار سات اور دو ہزار نو کے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنلز میں بھی امپائرنگ کی ہے۔ وہ دو ہزار چار کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھی امپائر تھے۔
ٹیم پر حملہ
سائمن ٹافل کی زندگی کا سب سے ناقابل فراموش واقعہ لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ تھا جس میں ان کی گاڑی بھی دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آئی۔ اس حملے میں وہ بال بال بچ گئے تھے جبکہ گاڑی میں موجود پاکستانی امپائر احسن رضا شدید زخمی ہوگئے تھے۔
سائمن ٹافل کی زندگی کا سب سے ناقابل فراموش واقعہ لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ تھا جس میں ان کی گاڑی بھی دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آئی۔ اس حملے میں وہ بال بال بچ گئے تھے جبکہ گاڑی میں موجود پاکستانی امپائر احسن رضا شدید زخمی ہوگئے تھے۔
سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نئی ذمہ داری کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ موجودہ اور مستقبل کے امپائرز کے کام میں بہتری کے سلسلے میں اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کرسکیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ امپائرنگ کا سفر طویل لیکن بہت ہی خوشگوار رہا ہے اور وہ اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا تجربہ نوجوان نسل کو منتقل کریں۔
آئی سی سی نے سائمن ٹافل کی جگہ آسٹریلیا کے بروس آکزن فرڈ کو ایلیٹ پینل میں شامل کرلیا ہے۔ باون سالہ آکزن فرڈ اب تک آٹھ ٹیسٹ اور انتالیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔






























