
اٹھارہ ستمبر سے سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ شروع ہو رہا ہے جس میں پوری دنیا سے بارہ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔
اب تک بھارت اور پاکستان دونوں اس عالمی کپ کو جیت چکے ہیں۔
وسیم اکرم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور دنیا کے مایہ ناز بالر وسیم اکرم نے پاکستان کو سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ جیتنے کا مضبوط دعویدار قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ موجودہ پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور تمام کھلاڑی باصلاحیت ہیں۔ وسیم نے کہا ’عمران نذیر اور عبدالرزاق جیسے کھلاڑیوں میں کسی بھی وقت میچ کا نتیجہ تبدیل کر دینے کی صلاحیت ہے۔ تاہم بلے بازوں کو مزید مثبت رخ اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔‘
سورو گنگولی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سورو گنگولی کا خیال ہے کہ اس ورلڈ کپ میں کسی ایک ٹیم کو فیورٹ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا ووٹ ہندوستانی ٹیم کو جائے گا۔ انھوں نے کہا ’مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم میں دنیا کی کسی بھی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت ہے۔ اسی بنا پر سورو گنگولی نے کچھ ہی دن پہلے کہا تھا کہ سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارتی ٹیم عالمی کپ کے لیے ایک مضبوط دعویدار کے طور پر جائے گی۔
پال کالنگ ووڈ

پال کالنگ ووڈ بذات خود انگلینڈ کی اس ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں جس نے دو ہزار دس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ کالنگ ووڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم میں گذشتہ جیت کو دوہرانے کا دم خم ہے۔ پال کالنگ ووڈ کے مطابق ’مجھے لگتا ہے کہ دو سال پہلے کی ٹیم کے مقابلے میں اس بار کی انگلینڈ ٹیم میں زیادہ تنوع ہے۔ اور یہ میں اس بات کو ذہن میں رکھ کر کہہ رہا ہوں کہ کیون پیٹرسن ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔‘
مصباح الحق

اگرچہ سری لنکا میں حصہ لینی والی پاکستان ٹیم میں خود مصباح الحق کو جگہ نہیں مل پائی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان دونوں ہی سب سے زیادہ مضبوط ٹیمیں ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی ٹیم اسے جیت سکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوہزار نو کی فاتح پاکستانی ٹیم اپنی پرانی فارم میں آ کر ایک بار پھر کپ حاصل کرنے کے قابل ہے۔
اسٹفن فلیمنگ

نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور گزشتہ چار سال سے چنئی سپرکنگز کے کوچ فلیمنگ نے بغیر کسی پس و پیش کے واضح انداز میں اس بار کے ورلڈ کپ جیتنے کی پیش گوئی کر دی ہے۔ ان کے مطابق اس بار ویسٹ انڈیز کی ٹیم یہ کپ حاصل کرے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہرانا شاید سب سے مشکل کام ہوگا‘۔ ان کے خیال میں کرس گیل، کیون پولارڈ اور براوو جیسے کھلاڑیوں کی ٹیم میں موجودگی نے ان کی ٹیم کی قوت میں اضافہ کیا ہے۔






























