دو ہزار بارہ کے لندن اولمپکس مشرقی لندن میں واقع اولمپک سٹیڈیم میں منعقد ہونے والی ایک رنگارنگ تقریب میں اپنے باقاعدہ اختتام کو پہنچ گئے ہیں اور اولمپکس کا پرچم اور علامتی بیٹن دو ہزار سولہ کے اولمپکس کے میزبان برازیلی شہر ریئو ڈی جنیرو کے حکام کو سونپ دیا گیا ہے۔
کلِک لندن اولمپکس 2012 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ
تقریب کا اختتام اولمپکس مشعل بجھا کر کیا گیا۔ لندن اولمپکس کی مشعل جن دو سو چار پتیوں کو جوڑ کر بنائی گئی تھی انہیں تقریب کے اختتام پر ان مقابلوں میں شریک ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
ان تیسویں اولمپک کھیلوں میں کُل تین سو دو تمغوں کے لیے دس ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا اور امریکہ نے بیجنگ اولمپکس میں حاصل کی گئی چینی برتری کو ختم کرتے ہوئے سب سے زیادہ میڈلز حاصل کیے۔

لندن اولمپکس کی اختتامی تقریب کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق رات نو بجے ہوا اور تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں چار ہزار ایک سو افراد اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
اس تقریب کا مرکزی خیال برطانوی موسیقی کے پچاس سال تھا اور اس میں برطانوی پاپ گروپ سپائس گرلز کے علاوہ گلوکار جارج مائیکل سمیت برطانوی دنیائے موسیقی کے بڑے بڑے ناموں نے اپنی آوازوں کا جادو جگایا۔
تقریب کے آرٹسٹک ڈائریکٹر کم گیون کا کہنا ہے کہ یہ تقریب فنونِ لطیفہ میں برطانوی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاس تھی اور یہ کسی شادی کی تقریب کے بعد ہونے والی ڈسکو پارٹی کا منظر تھا۔
اس تقریب کا آغاز بگ بین کا گھڑیال بجنے سے ہوا جس کے بعد برطانوی پرچم پر لندن شہر کا منظر پیش کیا گیا۔
تقریب کے آغاز میں بینڈ بجا کر برطانوی شہزادہ ہیری کی آمد کا اعلان کیا گیا جو اس تقریب میں ملکۂ برطانیہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ شہزادہ ہیری کے ساتھ عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر جیکس روگ بھی سٹیڈیم میں آئے۔
افتتاحی تقریب کے برعکس اختتامی تقریب میں تمام دو سو چار ممالک کے پرچم برداروں کے ساتھ ان ممالک کے ایتھلیٹ مارچ پاسٹ کرنے کی بجائےگروہوں کی شکل میں سٹیڈیم میں داخل ہوئے۔

اولمپکس کا پرچم دو ہزار سولہ کے اولمپکس کے میزبان برازیلی شہر ریو ڈی جنیرو کے میئر ایڈوارڈو پیئیس کے حوالے کیا گیا
اختتامی تقریب میں برطانیہ کا پرچم لانے کا اعزاز لندن اولمپکس میں اپنا چوتھا اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے کشتی ران بین اینسلی کو ملا۔
اس تقریب کو بھی سٹیڈیم میں موجود اسّی ہزار افراد کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنے ٹی وی کی سکرین پر دیکھا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لندن اولمپکس کے نگران لارڈ سباسچین کوو نے کہا کہ ’جب ہمارا وقت آیا تو ہم نے سب کچھ بالکل صحیح کر دکھایا‘۔
تقریب کے اختتام پر عالمی اولمپکس کمیٹی کے صدر جیکس روگ نے اولمپکس کا پرچم دو ہزار سولہ کے اولمپکس کے میزبان برازیلی شہر ریو ڈی جنیرو کے میئر ایڈوارڈو پیئیس کے حوالے کیا۔
پرچم کی حوالگی کے بعد سٹیڈیم میں برازیل کا قومی ترانہ بجایا گیا اور سٹیڈیم برازیلی پرچم کے رنگوں میں نہا گیا۔ اس کے بعدایک آٹھ منٹ طویل پروگرام میں ریئو ڈی جنیرو کی کثیر الثقافتی روایات، موسیقی اور رقص کا نمونہ پیش کیا گیا۔

لندن اولمپکس میں امریکہ نے بیجنگ اولمپک میں حاصل کی گئی چین کی برتری کو ختم کرتے ہوئے سب سے زیادہ میڈلز حاصل کیے ہیں۔
امریکہ نے کُل ایک سو چار تمغے جیتے جن میں سے چھیالیس طلائی تمغے ہیں۔ دوسرے نمبر پر چین رہا جس نے اڑتیس طلائی تمغوں سمیت کُل ستاسی میڈلز حاصل کیے۔
تیسویں اولمپک کھیلوں میں جس ملک نے ماضی کے مقابلے میں حیرت انگیز طور پر بہتر کارکردگی دکھائی وہ میزبان ملک برطانیہ تھا۔
بیجنگ اولمپکس میں انیس طلائی تمغے جیتنے والے اس ملک نے اس مرتبہ انتیس طلائی تمغے جیتے جبکہ اس کے کُل تمغوں کی تعداد چونسٹھ رہی۔ یہ ایک سو چار برس میں اولمپکس میں برطانیہ کی بہترین کارکردگی ہے۔
برطانیہ کے لیے انتیسواں اور آخری گولڈ میڈل کھیلوں کے آخری دن جوشوا انتھونی نے باکسنگ کے سپر ہیوی ویٹ مقابلے میں اٹلی کے رابرٹو کیمیریلی کو شکست دے کر حاصل کیا۔
لندن اولمپکس کا آخری مقابلہ خواتین کی ماڈرن پینٹاتھلون تھی جس میں لیتھوینیا کی لارا اسادوسکئیٹا نے طلائی تمغہ جیتا جبکہ برطانیہ کی سمانتھا مرے کے اس مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ان کھیلوں میں برطانیہ کو مجموعی طور پر چونسٹھواں میڈل دلوایا۔

امریکی تیراک مائیکل فیلپس چھ تمغوں کے ساتھ لندن اولمپکس کے سب سے کامیاب کھلاڑی رہے
آخری دن کے مقابلوں کے ایک خاص بات یوگنڈا کے سٹیفن کپروٹک کا گولڈ میڈل تھ۔ انہوں نے مروں کی میراتھن میں چھبیس اعشاریہ دو میل کا مقررہ فاصلہ دو گھنٹے آٹھ منٹ میں مکمل کر کے یوگنڈا کے لیے انیس سو بہتّر کے بعد پہلا اولمپکس طلائی تمغہ حاصل کیا۔
لندن اولمپکس کے دوران مجموعی طور پر چوالیس نئے عالمی جبکہ ایک سو سترہ نئے اولمپک ریکارڈ قائم ہوئے۔ ان مقابلوں میں شریک دو سو چار ممالک میں سے پچاسی ممالک کے ایتھلیٹ کم از کم ایک تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے جبکہ ان میں سے چوّن نے کم از کم ایک طلائی تمغہ جیتا۔
ان کھیلوں کے سب سے کامیاب کھلاڑی امریکہ کے تیراک مائیکل فیلپس رہے جنہوں نے لندن اولمپکس میں کُل چھ میڈلز جیتے جن میں سے چار طلائی اور دو چاندی کے تمغے تھے۔
فیلپس نے نہ صرف ان اولمپکس میں سب سے زیادہ تمغے حاصل کیے بلکہ وہ کل بائیس تمغوں کے ساتھ اولمپکس کی تاریخ میں سب سے زیادہ تمغے جیتنے والے شخص بن گئے ہیں۔
ایتھلیٹکس میں جمیکا کے یوسین بولٹ لندن اولمپکس کے دوران سو اور دو سو میٹر کی ریس میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والے پہلے شخص بنے۔ انہوں نے بیجنگ اولمپکس کی طرح ان مقابلوں میں بھی سو، دو سو اور چار ضرب سو میٹر کی ریس میں طلائی تمغے جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی۔
اس مواد کو دیکھنے کے لیے آپ کے براؤزر کا جاوا سکرپٹ کو چلانا ضروری ہے
(BBC Sport Olympics (In English| رینک | ملک | طلائی تمغے | چاندی کے تمغے | کانسی کے تمغے | کل تمغے | |
|---|---|---|---|---|---|---|
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔