’کامبلی کے دعوے کی تفتیش کی جائے‘

بی سی سی آئی کا لوگو
،تصویر کا کیپشناجے ماکن نے کہا ہے کہ اگر بی سی سی آئی تفتیش نہیں کرتا ہے تو وزارات کھیل اس کی تفتیش کرے گی

ہندوستان میں کھیل کے وزیر اجے ماکن نے کہا ہے کہ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی سابق کرکٹ کھلاڑی ونود کامبلی کے اس الزام کی تفتیش کرے جس کے مطابق 1996 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل میچ فکس تھا۔

اجے ماکن کا مزید کہنا تھا کہ اگر بی سی سی آئی تفتیش کے احکامات نہیں دیتی ہے تو انکی وزارات یہ تفتیش کرے گی۔

انکا کہنا تھا کہ اگر ٹیم کا کھلاڑی اس طرح کا الزام لگاتا ہے تو اسکی گہری تفتیش ہونی چاہیے۔ ’ملک کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔ کیا کامبلی کے لگائے الزام صحیح ہیں یا غلط۔ یا جاننا لوگوں کا حق ہے۔‘

دو روز قبل ہندوستان کے سابق کھلاڑی ونود کامبلی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے انٹریو میں 1996 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میچ پرشک کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان اس بات پر بے حد حیرانی ہوئی تھی کہ اس میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس میچ میں کپتانی محمد اظہرالدین کررہے تھے۔

1996 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل میچ بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہوا تھا۔ میچ جیتنے کے لیے 252 رنوں کے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے بھارتی ٹیم 120 رنز پر آٹھ وکٹ گنوا چکی تھی۔

اس کے بعد ناراض شائقین نے میدان میں بوتلیں پھیکنی شروع کردی تھیں اور میچ کو اسی وقت روک دیا گیا تھا۔ سری لنکا کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔

کامبلی کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے اس وقت ٹیم کے کپتان اور سابق کھلاڑی اظہرالدین نے کہا ہے ’کامبلی جو بھی کہ رہے ہیں وہ بے کار ہے۔ یہ پوری ٹیم کا فیصلہ تھا کہ ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کریں گے۔ جب ہم ٹیم کی میٹنگ کررہے تھے تو شاید وہ سو رہے تھے‘۔

وہیں تجزیہ کار پردیپ میگزین سے جب بی بی سی نے یہ پوچھا کہ پندرہ سال تک کامبلی کیوں چپ رہے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم کا کوئی ممبر اس طرح کے الزامات لگاتا ہے تو اسے ایک بار سننا ضرور چاہیے۔

وہ کہتے ہیں '’شک ضرور ہوتا ہے کہ کامبلی اتنے دن چپ کیوں رہے۔ لیکن اگر حال ہی میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق چیئرمین پال کونڈن کے بیان کو دیکھیں تو اس میں انہوں نے کہا ہے کہ نوے کی دہائی میں انکی نظر کئی ممالک پر تھی اور انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ بعض میچيز فکس کیے جارہے تھے جن میں ورلڈ کپ کے میچ بھی شامل تھے۔ ایسے میں کامبلی کے بیان کے بعد یہ شک ضرور بڑھ جاتا ہے کہ ان دنوں میچ فکس ہورہے تھے۔‘