مشہور کوہ پیما چوٹی سر کرتے ہوئے ہلاک

سلوینیا کے شہرت یافتہ کوہ پیما توماز ہُمار کی لاش نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے ملی ہے۔
چالیس سالہ توماز نے آخری مرتبہ سوموار کو بیس کیمپ سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیپال میں ایک چوٹی سر کرتے ہوئے زخمی ہو گئے ہیں۔
ان کے ساتھی کوہ پیما وکی گروسیج نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ توماز کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے۔
اس سے پہلے بھی 2005 میں دو بچوں کے باپ توماز پاکستان میں نانگا پربت سر کرتے ہوئے ایک کھائی میں پھنس گئے تھے اور پاکستانی ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں نے بڑی بہادری سے ان کی جان بچائی تھی۔ پائلٹوں کے اس کارنامے پر انہیں حکومتِ سلوینیا نے اپنے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا تھا۔
توماز کو نیپال کی چوٹی پر سے بچانے کی کوششوں میں سخت برفباری کی وجہ سے تاخیر ہوئی جو کہ جان لیوا ثابت ہوئی۔
ان کی لاش کا جہاز سے پتہ چلانے کے بعد سنیچر کو ایک تین رکنی امدادی ٹیم اسے نیچے لے کر آئی۔
نیال کے کوہ پیماؤں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ زمبا زانگبو شیرپا نے آنجہانی کوہ پیما کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو پہاڑ توماز سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ تکنیکی اعتبار سے بہت مشکل تھا اور ہر کوئی اسے سر کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمار ایک باہمت شخص تھے۔ ہمیں اتنے اعلیٰ پائے کے مشہورِ زمانہ کوہ پیما کی موت کا بہت دکھ ہے جنہیں نیپال کے پہاڑوں سے بے پناہ محبت تھی۔‘
ہمار کی وجۂ شہرت یہ تھی کہ وہ ٹیم کی بجائے اکیلے ہی بڑی بڑی چوٹیاں سر لیتے تھے۔ 1999 میں انہوں نے دنیا کی ساتویں نمبر پر سب سے اونچی چوٹی دھاؤلاگری کو اکیلے جنوب کی جانب سے سر کیا تھا جو کہ ایک بڑا کارنامہ تھا۔



