ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ شائقین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش: مصباح

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز آنے والے دنوں میں بین الاقوامی کرکٹ کا مستقبل ثابت ہو سکتے ہیں۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں شائقین کی جو دلچسپی موجود ہے اس میں بہت ضروری ہے کہ شائقین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز ہوں خاص کر ان شائقین کے لیے جو ٹیسٹ میچز دیکھنا چاہتے ہیں لیکن دن میں اپنی مصروفیت کے سبب میچز نہیں دیکھ سکتے وہ شام کو کام سے واپس آنے کے بعد ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز دیکھ سکیں گے۔
مصباح الحق کہتے ہیں کہ یہ ایک اچھا تجربہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ گلابی گیند کے ساتھ یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ثابت ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان کے 400ویں ٹیسٹ میچ اور پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کا حصہ بن رہے ہیں۔
'یہ کسی بھی کرکٹر کے لیے خوشی کی بات ہوتی ہے کہ وہ کسی اہم موقع کا حصہ بنے اور ان کی کوشش ہوگی کہ اس اہم ٹیسٹ میچ کو جیت سے یادگار بنا سکیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن برقرار نہ رہنے کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے ہیں بلکہ ان کی زیادہ توجہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز پر ہے جسے وہ جیتنا چاہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم بغیر کھیلے دوسری ٹیموں کے نتائج کی بنیاد پر عالمی نمبر ایک بنی تھی اور اب بغیر کھیلے نمبر دو ہوگئی ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کو کسی طور آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔وہ ایک نوجوان ٹیم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصباح الحق کے خیال میں بابر اعظم کے ٹیسٹ کریئر کے آغاز کا اس سے زیادہ اچھا موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے خود کو منجھے ہوئے بین الاقوامی کرکٹر میں تبدیل کیا ہے اور بڑی پختہ اننگز کھیلی ہیں۔ان سے مستقبل میں بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔یونس خان کے نہ ہونے کے سبب بابر اعظم کو اچھا موقع مل گیا ہے۔
اظہر علی کو اوپنر کے طور پر کھلانے کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کہ اظہر علی کو اوپنر اور اسد شفیق کو ون ڈاؤن کھلایا جائے لیکن دونوں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔یہ آپشن ٹیم میں پانچویں بولر کو شامل کرنے کے لیے ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹیم جب نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جائے تو ایک نیا کامبی نیشن سیٹ ہو چکا ہو۔








