
ٹوئٹر نے یہ نہیں بتایا کہ اکاؤنٹ کس وجہ سے متاثر ہوئے۔
مائیکرو بلاگنگ کی مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے ہزاروں صارفین کو ای میل کے ذریعے ان کے اکاؤنٹ متاثر ہونے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
ٹوئٹر کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ تیسرے فریق کی جانب سے کچھ اکاؤنٹ متاثر ہوئے ہیں لیکن دوسرے صارفین کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ورڈ غیر ارادی طور پر تبدیل ہو گئے ہیں۔
اس میں بی بی سی کے ایک اکاؤنٹ سمیت چند ہائی پروفائل اکاؤنٹ بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق ٹیک کرنچ بلاگ سمیت میڈیا کے اداروں کو خبردار کیا گیا ہے۔
ٹوئٹر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے’جب ہمیں یقین ہوا کہ کوئی اکاؤنٹ متاثر ہو سکتا ہے تو ہم نے اس کا پاس ورڈ تبدیل کر دیا اور اکاؤنٹ استعمال کرنے والے صارف کو ای میل کے ذریعے وجوہات کے بارے میں اور اس کے نئے پاس ورڈ کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔ یہ ہمارے صارفین کو تحفظ دینے کی پالیسی کے تحت معمول کی کارروائی ہے۔‘
صارفین کا تحفظ
"جب ہمیں یقین ہوا کہ کوئی اکاؤنٹ متاثر ہو سکتا ہے تو ہم نے اس کا پاس ورڈ تبدیل کر دیا اور اکاؤنٹ استعمال کرنے والے صارف کو ای میل کے ذریعے وجوہات کے بارے میں اور اس کے نئے پاس ورڈ کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔ یہ ہمارے صارفین کو تحفظ دینے کی پالیسی کے تحت معمول کی کارروائی ہے۔"
ٹوئٹر
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ’اس صورتحال میں متاثرہ اکاؤنٹس کے علاوہ غیر ارادی طور پر بڑی تعداد میں دیگر صارفین کے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کر دیے گئے ہیں۔‘
جن صارفین کو ای میل موصول ہوئی ہے ان کے مشاہدے کے مطابق ان کی چند ٹویٹس یا پیغامات غائب ہو گئے ہیں، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ ان کو مطلع کیے بغیر ان کے اکاؤنٹ پر سپیم لنکس پوسٹ کر دیے گئے ہیں جو متاثرہ اکاؤنٹ کی علامت ہے۔
ٹوئٹر پر بی بی سی ریڈیو فور کے اکاؤنٹ کو فالو کرنے والے صارفین کو بتایا گیا ہے کہ’وہ اپنی فیڈ سے متعلق مسائل کی وجوہات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
بی بی سی کے دیگر اکاؤنٹس کو خبردار کرنے کے حوالے سے ای میل موصول ہوئی ہے، تاہم اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اکاؤنٹ متاثر ہوا ہے یا نہیں۔
مزاحیہ اداکار ڈیوڈ مچل کے مطابق انہیں ایک ای میل موصول ہوئی ہے اور ان کی ابزرور نیوز پیپر پر لکھے گئے مضمون کی ٹویٹ غائب ہے۔






























