
کیوروسٹی مریخ کی سطح پر کھدائی کرکے زمین کی ساخت کا تجزیہ کریگي
ناسا کی خلائی گاڑی کیوروسٹی مریخ پر موجود ریت اور مٹی کے نمونے لینے اور ان کی جانچ کے لیے تیار ہے۔
مریخ کی لال سرزمین پر ناسا کی یہ گاڑی اگست کے مہینے میں اتری تھی اور ایک ریتیلے ڈھیر سے ہوکر گذری تھی جسے اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے ’راک نیسٹ‘ یعنی چٹانوں کے گھونسلے سے تعبیر کیا تھا۔
اس ہفتے یہ گاڑی مریخ کی سطح پر کھدائی کرے گی تاکہ وہ زمین کے اثرات سے پاک ہو جائے اور اس میں زمین کے کسی عوامل کا عمل دخل باقی نہ رہے۔
اس کے بعد یہ ’ایسپرین‘ کی گولی کی سائز کی ریت یا مٹی خلائی مشن پر موجود تجربہ گاہ میں تجزیہ کے لیے فراہم کرے گی۔
ناسا کے انجینیروں نے کہا ہے کہ اس عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے کیونکہ اس پر عمل کرنے والی مشین انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کے چلانے کے بہترین طریقے سیکھنے کے لیے وقت درکار ہے۔
کیوریوسٹی جسے مریخ کی سائنسی تجربہ گاہ (ایم ایس ایل) بھی کہا جاتا ہے وہ مریخ پر راک نسٹ کے پاس دو ہفتے رہے گی اور ریت کی جانچ کریگی۔
اس سے قبل جو سائنسی مطالعہ کیا گیا تھا اس میں ان کے نتائج خاطر خواہ نہیں آئے تھے اور ریت مریخ کی سطح پر آتش فشاں کی چٹان کے باقیات سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوئے تھے۔

یہ گاڑی مریخ کی سطح پر کھدائی کر رہی ہے۔
مریخ مشن کی ٹیم سیمپل کی جانچ کے طریقہ کار میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے بہ نسبت کسی نئی دریافت کے۔
اس میں پہلا مرحلہ مشین کے روبوٹ جیسے بازوں کی کھدائی کے ذریعے صفائی ہوگی تاکہ اس کی اندر تک صفائی ہو جائے۔ اس عمل کو چیمرا یا مریخ کے اندرونی چٹانوں کے اکٹھا کرنے اور جانچنے کا عمل کہا جاتا ہے۔
اس سے قبل کیوروسٹی کا ایک خاص چٹان سے قریبی رابطہ ہوا تھااور اس نے چٹان کا جائزہ لینے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا تھا۔
روبوٹ نے اپنی مشینی باہیں وہاں پائے جانے والے جوہری مادوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک قسم کی مخروطی چٹان کی طرف بڑھائیں اور اسے کھودا۔
کیوروسٹی گاڑی کا مریخ کی سطح پر کھدائی کا مشن ابھی بھی جاری ہے۔
اس معائنے سے تحقیق کاروں کو اس پتھر کی معدنیاتی ساخت کے بارے میں پتا چلے گا۔
اس گاڑی کو یہ جاننے کے لیے مریخ پربھیجا گیا ہے کہ آیا جس جگہ یہ اتری ہے اس کے آس پاس ماضی میں خوردبینی حیات موجود رہی ہے یا نہیں۔
اس سوال کا زیادہ بہتر جواب اس وقت ملے گا جب کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ پہاڑی کے دامن تک پہنچے گی۔






























