
یہ روبوٹ رنگ استعمال کر کے ماحول میں گھلنے ملنے یا ممتاز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے
سائنس دانوں نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو اپنے ماحول میں گھل مل جانے یا اپنے اردگرد سے ممتاز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ روبوٹ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے تیار کیا ہے۔ انہیں اس کا خیال آکٹوپس، کٹل فش اور سکوِڈ کی خود کو کیموفلاج کرنے کی صلاحیت دیکھ کر آیا۔
ان سمندری جانوروں کی طرح اس روبوٹ کا جسم بھی ربڑ جیسا نرم اور لچک دار ہے۔ یہ تحقیق ’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق کے ایک مصنف پروفیسر جارج وائٹ سائیڈز کہتے ہیں: ’روایتی روبوٹکس خاصی ترقی یافتہ سائنس ہے۔ اگر آپ زیادہ تر روبوٹوں کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان میں سے بیشتر انسان یا کسی دوسرے ممالیہ جانور کے جسم کی ساخت کو مدِنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔
’ہمارا سوال یہ ہے: آخر ہم ایسا کیوں کریں؟ ہم ایسے جانوروں کے بارے میں کیوں نہ سوچیں جو نرم و ملائم ہیں اور جو چلنے پھرنے اور خود کو کیموفلاج کرنے کے لیے مختلف حکمتِ عملیاں اپناتے ہیں۔ ایسے جانور ڈھونڈنے کے لیے سب سے سامنے کی جگہ پانی ہے۔‘
دو ہزار گیارہ میں تحقیقاتی ٹیم نے ایک اور رسالے ’پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں ایک مقالہ شائع کروایا تھا جس میں ایک ’ملائم روبوٹ‘ کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں جو رینگ سکتا ہے اور رکاوٹوں کے گرد مڑ سکتا ہے۔

اس روبوٹ کا بدن بے حد لچک دار ہے اور یہ رکاوٹوں کے گرد مڑ سکتا ہے
یہ روبوٹ سلیکون کے مرکبات سے تیار کیا گیا ہے اور یہ اپنی چار چھوٹی چھوٹی ’ٹانگوں‘ میں نصب ننھے سلنڈروں میں ہوا پمپ کرنے کے ذریعے حرکت کرتا ہے۔
اب سائنس دانوں نے ان روبوٹوں کو خود کو کیموفلاج کرنے کی صلاحیت دے کر ان پر پیچیدگی کی ایک اور تہہ کا اضافہ کر دیا ہے۔
ان کیموفلاج شدہ روبوٹوں کا جسم مہین نلکیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ ان رگوں میں مختلف رنگ داخل کیے جاتے ہیں جن سے روبوٹ تیزی سے اپنی رنگت بدل سکتے ہیں۔
رنگ بدلنے کے علاوہ ان روبوٹوں میں گرم و سرد مائع داخل کیا جاتا ہے جس سے وہ خود کو حرارتی طور پر بھی کیموفلاج کر سکتے ہیں، جب کہ فلوریسنٹ مائع جات کی مدد سے یہ اندھیرے میں جگنو کی طرح جگمگا سکتے ہیں۔
فی الحال مائع ایک بیرونی ٹینک کی مدد سے داخل کیا جاتا ہے لیکن مستقبل میں اسے روبوٹ کے بدن میں شامل کر لیا جائے گا۔
ٹیم کا خیال ہے کہ یہ مشینیں مختلف قسم کے کام سرانجام دے سکتی ہیں۔ تحقیق کے سرکردہ مصنف سٹیون مورن کہتے ہیں کہ نرم مشینیں اعضا اور بافتوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور انہیں طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وہ تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک ایسا نظام ہو جو پٹھوں کی حرکت کی اچھی طرح سے نقل کر سکتا ہو۔ ایسا نظام جو کسی مائع کی ترسیل کر سکتا ہو۔ ان دونوں کے امتزاج سے آپ کوئی ایسا آلہ بنا سکتے ہیں جو کسی مخصوص سرجیکل مسئلے کی ضروریات پوری کر سکتا ہو۔
"اگر آپ پچیس ہزار ڈالر کا روبوٹ کسی عمارت میں بھیجیں اور عمارت منہدم ہو جائے تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہو گا۔ لیکن اگر سو ڈالر کے روبوٹ پر چھت گر بھی جائے تو آپ کو زیادہ پروا نہیں ہو گی۔‘"
پروفیسر وائٹ سائیڈز
’آپ اس طرح کے نظام کو سرجری کی منصوبہ بندی یا تربیت کے لیے سہولت سے استعمال کر سکتے ہیں۔‘
ٹیم کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ مشینیں تحقیق اور تلاشی کے کاموں میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
پروفیسر وائٹ سائیڈز کہتے ہیں: ’اس قسم کے کاموں کے لیے آپ اس روبوٹ کی خود کو نمایاں کرنے اور اندھیرے میں جگمگانے کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ روبوٹ ہلکے، لچک دار اور نسبتاً سستے ہیں۔
’سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان روبوٹوں کی خصوصیات روایتی روبوٹوں سے بہت مختلف ہیں۔ آپ ان سادہ نظاموں سے اچھی خاصی پیچیدہ حرکات کروا سکتے ہیں۔‘
’تلاشی اور بچاؤ قسم کی کارروائیوں کے لیے یہ روبوٹ قابلِ تلف طریقے سے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ پچیس ہزار ڈالر کا روبوٹ کسی عمارت میں بھیجیں اور عمارت منہدم ہو جائے تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہو گا۔ لیکن اگر سو ڈالر کے روبوٹ پر چھت گر بھی جائے تو آپ کو زیادہ پروا نہیں ہو گی۔‘






























