گزشتہ عشرہ میں نئی نسل کے بارہ سو حیوانات کی دریافت ہوئی ہے۔تصاویر
،تصویر کا کیپشنجنوبی امریکہ کے مشہور دریائے ایمیزن میں گزشتہ دہائی میں حیاتیات کی تقریباً بارہ سو نسلیں دریافت ہوئی ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن نے نئی نسل کی جو فہرست تیار کی ہے اس میں چار میٹر کا لمبا یہ ایناکونڈا بھی شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشناس رپورٹ کا نام’ ایمیزن آلائیو‘ ہے جس میں سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار نو کے درمیان دریافت کیے گئے حیاتیات کی تفصیل کا ذکر ہے۔ نئی دریافت میں 637 پودے، 257 مچھلیاں، 216 زمینی اور بحری دونوں زندگی کے عادی حیوانات، پچپن رینگنے والے، سولہ پرندوں کی اقسام، اور بشمول اس بندر کے انتالیس قسم کے میمل جاندار شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس فہرست میں کیڑوں سے متعلق نئی دریافت کو شامل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا اعداد و شمار آسان نہیں ہے۔ رنگین اقسام کے مینڈکوں میں سے یہ نسل پیرو کے ترائی علاقے میں پائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنماحولیات میں تبدیلی اور ان حیاتیات کے رہنے میں مشکلات کے سبب بہت سے حیوانات کے وجود کا خطرہ لاحق ہے تو بہت سے اپنی خوبصورتی سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ مچھلی بھی پیرو میں ہی پائی جاتی ہے جسے وہاں سے پکڑ کر دوسرے ملکوں کو بر آمد کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنٹارنٹو کے نام سے جانے جانے والے اس مکڑے کی دریافت حال ہی میں ہوئی ہے جس پر ٹائیگر کی طرح کی دھاریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ برازیل کی ریاست ایکرے میں پایا جاتا ہے جو سب سے زیادہ اقسام کے حیوانات کا مسکن ہے۔
،تصویر کا کیپشناٹھارہ سو چھتیس میں اس کی دریافت کے بعد اسے ایمیزن کا ڈولفن یا پنک ریور دولفن بھی کہا جاتا تھا، لیکن دوہزار چھ میں پائے گئے اس حیوان کو سائنس دانوں نے اسے دوسرے قسم کی ڈولفن بتایا ہے جو بولیویا میں پایا جاتی ہے، یعنی یہ مختلف جانور ہے۔
،تصویر کا کیپشنگنجا یعنی سر پر بغیر پر والا یہ طوطا برازیل کے دریائے تپاجوس کے بعض خاص علاقوں میں دیکھا گیا ہے لیکن پانی بھرے رہنے کے سبب اس علاقے میں ان کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے۔