آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بچہ دانی میں رسولیاں: ’میرے شوہر جانتے تھے کہ اس آپریشن کے بعد ہمارے بچے نہیں ہوں گے‘
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
’میرے شوہر جانتے تھے کہ اس آپریشن کے بعد ہمارے بچے نہیں ہوں گے لیکن انھوں نے کہا مجھے تمہاری صحت کی قیمت پر بچے نہیں چاہییں۔۔۔ میں دنیا کی خوش قسمت عورت ہوں کیونکہ میری اس شخص سے شادی ہوئی جس نے میری صحت اور زندگی کے لیے اپنی خوشیوں کو قربان کر دیا۔‘
ملیحہ ہاشمی کی شادی کو دس برس ہو چکے ہیں اور ان کی حال ہی میں ایک سرجری ہوئی ہے جس میں ان کی بچہ دانی کو ان کے جسم سے نکال دیا گیا ہے۔
ملیحہ ہاشمی ایک خاتونِ خانہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میرے یوٹرس میں فائبرائیڈ (رسولیاں) بہت زیادہ پھیل چکے تھے اور اب انھیں یوٹرس سے الگ کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اس لیے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ مجھے اپنا پورا یوٹرس ہی نکلوا دینا چاہیے۔‘
’لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ملے گا‘
فائبرائیڈز کا نام پاکستان میں خواتین کے لیے نیا نہیں لیکن تکلیف کی صورت میں کنواری لڑکیوں کے لیے گائنی اور بچے دانی کے مسائل پر بات کرنے کو آج بھی باعث شرم سمجھا جاتا ہے۔ یہی کچھ ملیحہ کے ساتھ بھی ہوا۔
وہ بتاتی ہیں ’جب میں انٹر میں تھی تو اس وقت پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ مجھے پیٹ میں اچانک شدید درد اٹھا تھا، الٹرا ساؤنڈ سے پتہ چلا کہ میرے یوٹرس کے اندر فائبرائیڈ ہیں۔‘
’میرے والدین مجھے ہسپتال لے کر گئے جہاں میرے ٹیسٹ اور الٹرا ساؤنڈ کیے گئے۔ الٹرا ساؤنڈ سے پتہ چلا کہ میرے یوٹرس میں فائبرائیڈ کا حجم اس وقت تین سینٹی میٹر تھا۔ الٹرا ساونڈ کرنے والے ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ بیٹا بھول جاؤ کہ تمہیں کوئی بیماری ہے یہاں تک کہ اپنی سگی خالہ کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہیں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کی باتیں لڑکیاں اکثر لوگوں سے شیئر کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شادی ہونے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ تم اس کو بھول جاؤ۔‘
ملیحہ بتاتی ہیں کہ شروع شروع میں تو اس کی وجہ سے انھیں زیادہ طبی مسائل نہیں ہوتے تھے تاہم مہینے میں دو سے تین بار پیٹ میں شدید درد ہوتا تھا جس کی وجہ سے انھیں ملازمت سے چھٹی کرنی پڑتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس دوران میں گھر کا بھی کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔ میں زیادہ سے زیادہ ایک، دو دن درد کش دوائیں کھاتی یا پیٹ کی سیکائی کر لیا کرتی تھی کیونکہ الٹرا ساؤنڈ والے ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، اس لیے ہم نے اس کا کوئی معائنہ یا علاج نہیں کروایا۔‘
’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میرے والدین سمجھتے تھے اگر وہ ایک غیر شادی شدہ لڑکی کو گائنی کی ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں گے تو لوگ دیکھیں گے اور انھیں باتیں بنانے کا موقع ملے گا۔‘
فائبرائیڈ کیا ہوتے ہیں اور جسم میں کیسے بنتے ہیں؟
فائبراڈز دراصل بچہ دانی کے اندر بننے والی گوشت کی رسولیاں ہوتی ہیں، جو مختلف سائز اور تعداد میں ہو سکتی ہیں۔
ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فریسہ وقار کے مطابق ’بلوغت کے آغاز کے ساتھ ہی بیشتر پاکستانی خواتین میں یہ رسولیاں یا فائبرائیڈز بننے لگ جاتے ہیں لیکن یہ نقصان دہ نہیں ہوتے۔ تاہم ان میں سے پانچ سے 10 فیصد خواتین کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
جن خواتین کے معاملے میں نوبت علاج تک آتی ہی ڈاکٹر فریشہ کے بقول ’ایسی خواتین میں یا تو یہ رسولیاں اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے بہت زیادہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ مزید گزارہ نہیں کرنا چاہتیں۔ یا پھر بچے نہیں ہو رہے ہوتے تو ہم آپریشن کر کے یہ رسولیاں نکالتے ہیں تاکہ بچہ دانی کو نقصان نہ پہنچے اور بچے پیدا ہو سکیں۔‘
ڈاکٹر فریسہ کے بقول ان رسولیوں کے بننے کی کوئی خاص وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم ایک خیال یہ بھی ہے کہ کچھ خواتین میں ایسٹروجن زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے اور اس کے باعث فائبرائیڈز بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ محض سترہ یا اٹھارہ برس کی لڑکیاں بہت بڑی بڑی رسولیوں کے ساتھ علاج کے لیے آتی ہیں۔ غالباً یہ رسولیاں بلوغت کے بعد ہونے والی ہارمون کی تبدیلیوں کے باعث بڑھنے لگتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر فائبرائیڈز کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سسٹ اور فائبرائیڈز میں کیا فرق ہوتا ہے؟
ہم عموماً خواتین کے جسم کی رسولیوں اور ان کے علاج کے حوالے سے دو طرح کے نام سنتے ہیں جن میں ایک فائبرائیڈز اور ایک سسٹ ہوتا ہے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے یہی سوال میں نے ڈاکٹر فریسہ وقار سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا دونوں کی نوعیت اور جسم پر ہونے والے اثرات میں فرق ہے۔
ان کے بقول ’سسٹ پانی کی تھیلیوں جیسی رسولیاں ہوتی ہیں جو اوریز یعنی بیضہ دانیوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ رسولیاں بھی خواتین میں ماہواری کے تناسب کو متاثر کرتی ہیں۔ تاہم ان میں سے بیشتر رسولیاں ماہواری کے ساتھ ہی ختم بھی ہو جاتی ہیں۔'
ڈاکٹر فریسہ وقار کا کہنا تھا جن خواتین میں یہ سسٹ بنتی ہیں، ان میں سے بھی محض پانچ سے دس فیصد خواتین کو علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
'جبکہ فائبرائیڈز گوشت کی رسولیاں ہوتی ہیں جو یوٹرس یعنی بچہ دانی میں پائی جاتی ہیں۔'
ڈاکٹر فریسہ وقار کا مزید کہنا تھا 'اگر کسی میں ان رسولیوں کی تشخیص ہوتی ہے لیکن ان کی ماہواری اور صحت ٹھیک ہے تو انھیں علاج کی ضرورت نہیں لیکن اگر کسی خاتون کو بہت زیادہ خون آنے اور درد کی شکایت ہے تو وہ لازمی معائنہ کروائیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'اکثر کیسز میں فائبرائیڈز اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ خود خواتین کو محسوس ہونے لگتے ہیں اور عموماً ایسی خواتین شادی کے بعد مسائل بڑھنے پر ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’ماؤں کو اس بات کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ بچیوں کی ماہواری میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں تو ان کا فوری معائنہ کروائیں۔'
ڈاکٹر فریسہ کے بقول لائف سٹائل چینج یا متناسب خوراک اور وزن کم کرنے سے اوورئین سسٹ کو تو کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاہم فائبرائیڈز چونکہ ہارمونز میں ہونے والے تبدیلیوں سے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی احتیاط موجود نہیں ہے۔
ہونے والے شوہر نے معائنے اور علاج کے لیے حوصلہ افزائی کی
ملیحہ ہاشمی نے اسی درد کے ساتھ گزارا کرتے ہوئے تعلیم مکمل ہونے کے بعد ملازمت شروع کر دی لیکن اس دوران انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے پیٹ کا حجم تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
ملحیہ کا کہنا تھا ’میں اپنی ڈائٹ (کھانے پینے) کا بہت خیال رکھتی تھی اس لیے مجھے اپنے پیٹ کے بڑھنے پر فکر ہونے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ درد کی وجہ سے مہینے میں دو سے تین بار مجھے ملازمت سے چھٹی بھی کرنی پڑتی جس کی وجہ سے میرے شوہر جو اس وقت میرے باس تھے انھوں نے مجھے کہا کہ اتنی زیادہ چھٹیاں مت کیا کرو۔'
'میں چونکہ اپنی چھٹیوں کی وجہ نہیں بتاتی تھی اس لیے ان کی بار بار سرزنش پر مجھے انھیں بتانا پڑا کہ میرے جسم میں فائبرائیڈز ہیں جن کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔'
ملحیہ نے مزید بتایا کہ 'یہ بات پتہ چلنے پر انھوں نے مجھ سے یہ پوچھنا شروع کر دیا کہ تم نے اپنا معائنہ کب کروایا تھا یا یہ کہ اس کا کیا علاج ہے اور یہ کہ کم از کم اپنا باقاعدگی سے معائنہ تو کرواتی رہو۔'
'تب میں نے ان سے کہا کہ آپ سمجھتے نہیں ہیں اگر میں اپنا معائنہ یا علاج کرواں گی تو مجھ سے شادی کون کرے گا تب انھوں نے ہنس کر کہا میں کروں گا۔'
ملیحہ نے اس بات کو مذاق سمجھ کر درگزر کر دیا تاہم بارہا سمجھانے پر انھوں نے اپنی والدہ سے بات کی کہ وہ کم از کم معائنہ کروانا چاہتی ہیں اور تھوڑی تگ و دو کے بعد انھوں نے اپنی والدہ کو بھی اس بات پر راضی کر لیا۔
خاتون ڈاکٹر سے معائنے کے بعد ملحیہ ہاشمی کو ایک اور پریشان کن خبر ملی۔
ملیحہ بتاتی ہیں کہ 'ڈاکٹر الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد خود بھی گھبرا گئیں اور کہا کہ میں فوری طور پر کسی سرجن سے ملوں۔ انھوں نے کہا تمہارے فائبرائیڈز بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں جس کی وجہ سے یوٹرس کی شکل خراب ہو گئی ہے، صورتحال کافی بگڑ چکی ہے اس لیے تمہیں فوری طور پر کسی سرجن سے ملنا چاہیے۔'
'اس وقت میری والدہ نے فیصلہ کیا کہ اب چاہے دنیا کچھ بھی کہتی ہے ہمیں اس کا علاج کروانا ہے۔ اور چھ دن بعد میری سرجری کر دی گئی۔'
'یہ جانتے تھے کہ شاید ہمارے بچے نہ ہوں'
ملحیہ نے جس بات کو مذاق سمجھا تھا وہ حقیقت بننے کا وقت آ گیا تھا۔ سرجری کے کچھ عرصے بعد ریاض احمد نجم کے گھر سے ان کے لیے رشتہ آیا۔
ملحیہ بتاتی ہیں 'یہ ساری صورتحال سے پہلے سے آگاہ تھے، یہ جانتے تھے کہ شاید ہمارے کبھی بچے نہ ہوں۔'
'اس وقت میری والدہ نے بھی ان پر ساری صورتحال واضح کی اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہو کہ اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا جی مجھے معلوم ہے۔۔۔ میں ساری صورتحال سے آگاہ ہوں۔'
'پھر ہماری شادی ہو گئی۔'
ملیحہ کے شوہر ریاض احمد کا کہنا ہے انھیں ملیحہ پہلے سے ہی پسند تھیں لیکن جب ملیحہ نے انھیں اپنی صحت کے بارے میں بتایا تو انھیں کھل کر کہنا پڑا کہ وہ ان سے شادی کریں گے۔ اس لیے جب پہلی سرجری کے بعد ملیحہ واپس دفتر آئیں تو انھوں نے ان سے کہا کہ 'انھوں نے جو بات ان سے بظاہر مذاق میں کہی تھی وہ سچ مچ کرنا چاہتے ہیں۔'
ریاض احمد کا کہنا تھا کہ ملیحہ کی زبانی ان کی بیماری کا سننے کے بعد انھوں نے انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں تحقیق کی تھی۔
'جب میں نے انھیں شادی کے لیے پروپوز کیا تو مجھے اس وقت ہر چیز کے بارے میں علم تھا، میں جانتا تھا کہ ان کی صورتحال میں پچاس فیصد چانس ہیں کہ بچے شاید نہ ہوں۔ لیکن میں شادی کا فیصلہ کر چکا تھا اس لیے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔'
'میرے نزدیک شادی کے لیے ذہنی ہم آہنگی بہت ضروری تھی جو مجھے ملیحہ میں مل گئی تھی۔'
بچوں کے لیے علاج سے پیچیگیاں بڑھتی گئیں
ملیحہ کی شادی کو ڈھائی برس گزرے تو انھوں نے بچوں کی پیدائش کے لیے پھر سے چیک اپ کروایا۔
ملحیہ کا کہنا تھا 'یہ تو ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے بچے نارمل طریقے سے نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے مجھے دواؤں کی ضرورت ہو گی، لیکن جب میں وہ دوا لیتی تھی تو اس کا فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا تھا، اس سے میری رسولیوں کا حجم زیادہ بڑھنے لگ جاتا۔'
ملیحہ بتاتی ہیں کہ ان پر ان کے شوہر کی جانب سے بچوں کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن وہ خود محسوس کرتی تھیں کہ انھیں اپنا معائنہ کروانا چاہیے، بچوں کے لیے علاج کروانا چاہیے۔
ملحیہ کے بقول 'یہ کہتے تھے کہ دوا کھانے سے الٹا تمہارے فائبرائیڈ کا سائز بڑھنے لگتا ہے تو یہ دوائی مت کھاؤ، پھر رفتہ رفتہ ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے بھی مزید دوا نہ کھانے کا فیصلہ کر لیا۔'
لیکن ملیحہ کے لیے صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ ان کے فائبرائیڈز اس قدر بڑھ چکے تھے کہ وہ خود ایک مسئلہ بن چکے تھے۔
ملیحہ بتاتی ہیں 'میں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتی تھی، لیٹنا بھی مشکل تھا، جب میں کروٹ لیتی تو سانس نہیں لے سکتی تھی، بیٹھنے سے معدے پر بوجھ پڑتا تھا جس سے درد ہوتا۔'
یہی نہیں بلکہ ملیحہ کے لیے گھر سے باہر جانا بھی ایک مسئلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ملیحہ بتاتی ہیں 'بلیڈنگ کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ پریشانی رہتی تھی کہ میں کتنی دیر تک باہر رہ سکتی ہوں، یہی حساب لگاتی رہتی تھی۔ مجھے بار بار واش روم جانا پڑتا تھا، تو میں سوچتی تھی کہ گھر سے پانی پی کر نکلوں یا نہیں۔ اس کی وجہ سے میں زیادہ تر گھر پر ہی رہنے لگی تھی۔'
ملیحہ کے بقول ان کے لیے یوٹرس کے ساتھ گزارا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل ہوتا چلا جا رہا تھا۔
'شوہر نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ تم اسے نکلوا دو جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ہم یوٹرس کی سرجری کروا لیں گے۔'
آپریشن کے ذریعے بچہ دانی نکال دیے جانے کے فیصلہ کے بارے میں ملحیہ کے شوہر ریاض احمد کا کہنا تھا کہ 'اس میں بھی میرا کردار زیادہ تھا کیونکہ میرے خیال میں جتنا زیادہ علاج کرواتے پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی تھی۔'
ریاض احمد نجم کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو اپنی کسی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا 'ظاہر ہے سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے ہوں لیکن ہم جانتے تھے کہ ہم زیادہ علاج کرائیں گے تو صورتحال بگڑ جائے گی۔ ہم نے اسے اللہ کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیا۔'
'میرے لیے اس کی صحت زیادہ اہم ہے، بجائے اس کے کہ ہمارے بچے ہوں۔ بچے ہونا اچھی بات ہے لیکن اگر کسی انسان کی صحت کو داؤ پر لگا کر آپ بچوں کی خواہش رکھتے ہیں تو میرے خیال میں یہ غلط بات ہے۔'
ریاض احمد کہتے ہیں 'یہ فیصلہ کرنا کہ اب ہم بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے میرے لیے بالکل مشکل نہیں تھا۔'
اگرچہ ملیحہ اور ان کے شوہر نے بچہ دانی نکلوانے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم ڈاکٹرز نے انھیں سوچنے کا ایک اور موقع دیا۔
ریاض احمد کا کہنا تھا 'ڈاکٹر نے ہم سے کہا تھا ایک بار گھر جا کر تسلی سے سوچ لیں کیونکہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اس کے بعد آپ کے بچے نہیں ہوں گے۔ '
انھوں نے ڈاکرز کے کہنے پر مزید دو دن لیے لیکن چونکہ وہ طے کر چکے تھے اس لیے انھوں نے ڈاکرز کو اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔
'بچوں کے لیے ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا'
ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ عموماً ایسی خواتین جنھیں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے انھیں سب سے پہلے اپنے شوہروں سے ہی طعنے اور دوسری شادی کی دھمکیاں ملتی ہیں تاہم نہ صرف وہ شوہر کے معاملے میں خوش نصیب ہیں بلکہ انھیں اس حوالے سے کبھی بھی سسرال کی طرف سے بھی کسی دباؤ کا سامنا نہیں رہا۔ حتیٰ کہ شادی کے بہت سال گزرنے کے بعد اگر کوئی انھیں بچے نہ ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو ان کی ساس ہمیشہ ان کا ساتھ دیتی ہیں۔
ملیحہ کے شوہر ریاض احمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی دوست یا کولیگ کی جانب سے کبھی کبھار دوسری شادی کرنے یا بچے گود لینے کے مشورے دیے جاتے ہیں تاہم ان کے والدین یا گھر والوں نے کبھی بھی ان سے ایسا کوئی سوال نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے فیصلے کے بعد بھی ان کے والدین کو صرف ملیحہ کی صحت کے حوالے سے پریشانی ہوئی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کبھی کبھار خاندان کے فنکشنز میں کچھ خواتین ایسی باتیں کر جاتی ہیں کہ وہ ملیحہ کے سامنے میری والدہ کو میری دوسری شادی کے مشورے دے دیتی ہیں تاہم میری والدہ ملیحہ کا ساتھ دیتے ہوئے انھیں ڈانٹ دیتی ہیں۔'
آپریشن کے بعد زندگی کیسی ہے؟
ملیحہ اور ریاض نے بچہ دانی نکلوانے کا بڑا فیصلہ تو کر لیا لیکن کیا دل میں کوئی خلش تو نہیں ہے۔ اس حوالے سے ملحیہ کا کہنا تھا 'میرے شوہر نے ہمیشہ یہ کہا کہ مجھے تمہاری صحت کی قیمت پر بچے نہیں چاہیں کہ تم بستر پر لیٹی ہو اور مجھے بچے مل جائیں۔'
ان کا مزید کہنا تھا 'آپریشن سے پہلے ہم جانتے تھے کہ اس کے بعد کوئی ان ڈو (کیے کو مٹانے) والی سچوئیشن نہیں ہو گی۔ مجھے کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے کہ اب کوئی امید بھی نہیں ہے کہ ہمارے کبھی بچے ہوں گے لیکن میرے شوہر کبھی اس بارے میں بات نہیں کرتے بلکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ اس موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔'
ملیحہ کہتی ہیں 'بچہ گود لینے کے مشوروں پر بھی انھوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑ رکھا ہے۔ یہ کہتے ہیں اگر تم چاہو تو ایسا کر سکتی ہو۔'
ریاض احمد کی توجہ اور محبت کا مرکز پہلے بھی ملحیہ ہی تھیں اور ان کے بقول اب ایسا ہمیشہ رہے گا۔
ان کا مستقبل کے حوالے سے کہنا تھا کہ 'جیسے ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں ویسے ہی رکھتے رہیں گے۔ ہم دونوں میں دوستی برقرار رہے گی۔ پہلے بھی ہمارا وقت ایک دوسرے کے لیے تھا اور آئندہ بھی سارا وقت ایک دوسرے کے لیے رہے گا۔'