آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑوں سے بچنے کے لیے اپنے چھتوں پر فضلہ لگاتی ہیں
سائنسدانوں کو پتا چلا ہے کہ ویتنام میں شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑوں کے حملے سے بچنے کے لیے اپنے چھتوں کے گرد جانوروں کا فضلہ لگاتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ شہد کی مکھیوں کی جانب سے کسی قسم کے ’آلات‘ کے استعمال کے پہلے باقاعدہ شواہد ہیں۔
یہ شہد کی مکھیاں اپنے ٹھکانوں کو بچانے کے لیے بھینس کا گوبر حتیٰ کہ انسانی پیشاب تک جمع کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور یہ ان پودوں کی پولی نیشن یا زیرگی کے لیے بہت زیادہ ضروری ہیں جن پر انسان خوراک کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
بدھ کو پلوز ون نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب ویتنام میں شہد کی مکھیاں پالنے والوں نے شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے داخلی راستوں کے قریب گہرے رنگ کے دھبے دیکھے جو کہ دراصل فضلہ تھا۔
تحقیق کے رہنمائی کرنے والے محقق بہیتھر مٹیلا نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’ہم نے سوچا کہ یہ تو پاگل پن ہوگا کیونکہ شہد کی مکھیاں گوبر جمع نہیں کرتیں۔‘
تحقیق سے یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ فضلہ ہی تھا جو کہ شہد کی مکھیوں نے اپنے دفاع کے لیے باہر رکھا تھا خاص طور پر بڑی بھڑّوں سے بچنے کے لیے۔
ڈاکٹر مٹیلا کے مطابق یہ شہد کی مکھیوں کی جانب سے دفاع کے مؤثر حربوں میں سے ایک اور اضافہ ہے جو وہ اپنے چھتّوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
شہد کی مکھیاں اپنے خلاف بھڑّوں کے حملوں کو روکنے کے لیے متعدد طریقے اختیار کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
بڑی ایشیائی بِھڑ جو شہد کی مکھی سے پانچ گنا بڑی ہوتی ہے، شہد کی مکھیوں کے پورے چھتے کو چند گھنٹوں میں تناہ کر سکتی ہے۔ وہ انسانوں کو بھی ایسا ڈنک مار سکتی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے پایا کہ یہ بِھڑیں ایسے چھتوں پر کم حملہ کرتی ہیں جن پر فضلہ موجود ہو، اور اگر وہ ایسے چھتوں پر اتر بھی جائیں تو اس کے داخلی راستوں کو چبانے کا تناسب 94 فیصد کم ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ فضلے کی مدد سے دفاع کرنا خاص طور پر ایشیائی شہد کی مکھیوں میں دیکھا گیا ہے جبکہ یورپ اور شمالی امریکہ میں اس طرح کا دفاع دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
حال ہی میں ایشیائی بھِڑوں کو شمالی امریکہ میں بھی دیکھا گیا ہے جہاں انہیں ’قاتل بِھڑوں‘ کا نام دیا گیا کیا ہے کیونکہ ان سے مقامی شہد کی مکھیوں کو خطرات لاحق ہیں اور ساتھ ساتھ ماحولیات اور انسانی تحفظ کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں سمتھسونین میوزیم کے مطابق ایشیا میں ہر سال کم از کم 40 افراد بھڑوں کے ڈنک مارنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔