آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بِٹ کوائن: امریکی حکام نے ’سِلک روڈ‘ سے منسلک اکاؤنٹ سے ایک ارب ڈالر کے بِٹ کوائنز ضبط کر لیے
امریکہ کے محکمہ انصاف نے بدنام زمانہ ویب سائٹ 'سِلک روڈ' سے منسلک ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے بِٹ کوائنز ضبط کر لیے ہیں۔
رواں ہفتے کے اوائل میں کرپٹو کرنسی کے نگرانوں نے دیکھا کہ 70 ہزار بٹ کوائنز کو ایک غیر قانونی مارکیٹ سے منسلک اکاؤنٹ سے منتقل کیا گیا تھا۔
سِلک روڈ ایک آن لائن بلیک مارکیٹ تھی جہاں منشیات سے لے کر چوری شدہ کریڈٹ کارڈز تک فروخت ہوتے تھے اور کرائے کے قاتل بھی دستیاب تھے۔
اسے سنہ 2013 میں امریکی حکومت نے بند کر دیا تھا۔
یہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کرپٹو کرنسی کی صورت میں ضبط کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو امریکی اٹارنی ڈیوڈ اینڈرسن نے تصدیق کی کہ حکام نے کرپٹو کرنسی کی صورت میں اثاثے ضبط کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'سِلک روڈ اپنے دور کا بدنام ترین بازار تھا۔ سِلک روڈ کے بانی کے خلاف سنہ 2015 میں کامیاب کارروائی کے بعد یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ پیسہ کہاں گیا؟'
ان کا کہنا تھا کہ اب انھوں نے کسی حد تک اس سوال کا جواب دے دیا ہے اور یہ کہ مجرمانہ کارروائیوں سے حاصل کیے گئے ایک ارب ڈالر آج امریکہ کے قبضے میں ہیں۔'
تحقیقات کرنے والے امریکی سرکاری ادارے انٹرنیشنل ریونیو سروسز (آئی آر ایس) کے مطابق اس نے سِلک روڈ کی جانب سے بٹ کوائنز میں لین دین کا جائزہ لینے کے لیے تیسرے فریق کی مدد حاصل کی تھی۔
انھوں نے ملزم کا فرضی نام بتاتے ہوئے کہا کہ اس تیسرے فریق کی تحقیقات نے انھیں اس شخص تک رسائی دلوائی جس نے مبینہ طور پر بازار سے یہ فنڈز ہیک کیے تھے۔
اس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تین نومبر کو یہ رقم حاصل کی اور اب یہ محکمہ انصاف کے قبضے میں ہے۔
آئی آر ایس کی سپیشل ایجنٹ کیلی جیکسن کا کہنا ہے 'مجرمانہ طریقے سے کمائی گئی رقم چوروں کے ہاتھ میں نہیں رہنی چاہیے‘۔
سنہ 2015 میں بھی سِلک روڈ سے وابستہ بٹ کوائنز قبضہ میں لیے گئے تھے جنہیں امریکی حکومت نے نیلام کر دیا تھا۔
سِلک روڈ کے بانی روس البریچ اس وقت عمر قید کی دوہری سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان پر منی لانڈرنگ، کمپیوٹر ہیکنگ اور منشیات کے سمگلنگ کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔