درد سے چھٹکارا پانے کے لیے مادہ منویہ کے انجکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خود کو مادہ منویہ اک انجیکشن لگانے والا شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکٹرز اس مریض کو دیکھ کر حیران تھے جو خود کو اپنے مادہ منویہ کا انجیکشن لگا رہا تھا

خدا کے واسطے یہ تجربہ خود کرنے کی کوشش نہ کیجیے گا!

انٹرنیٹ پر چند حلقوں میں مادہ منویہ (یعنی انسانی سپرم) کے افزائش نسل کے علاوہ مختلف فوائد پر بحث سامنے آتی رہتی ہے اور لوگ اکثر کسی ماہر سے رائے لیے بغیر ایسی تراکیب کا استعمال کر لیتے ہیں۔

لیکن حال ہی میں آئرلینڈ کے ڈاکٹروں کے سامنے ایک ایسا معاملہ آیا جیسا انھوں نے نہ پہلے کبھی سنا نہ دیکھا!

آئرش میڈیکل جرنل نامی رسالے میں شائع ایک رپورٹ میں آئرلینڈ کے ایڈیلیڈ اینڈ میتھ ہسپتال کی ڈاکٹر لیزا ڈن نے بتایا کہ ان کے پاس ایک ایسا مریض آیا جسے کمر کے نچلے حصے میں شدید درد کی شکایت تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مریض نے بتایا کہ اسے کئی ہفتوں سے یہ شکایت ہے، جو کہ بھاری وزن اٹھانے کے بعد بڑھ گئی۔

مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹر نے مریض کی دائیں بازو پر ابھار دیکھا۔ وجہ پوچھنے پر مریض نے بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے وہ ہر مہینے اپنے ہی مادہ منویہ کا انجیکشن خود کو لگاتا رہا ہے۔

مادہ منویہ کا انجیکشن خود کو لگانے والا شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمتاثر شخص پیٹھ کے نچلے حصہ میں شدید درد سے پریشان تھا

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ گیسولین، پارہ، کویلہ یا ایسڈ جیسی چیزوں کے انجیکشن خودکشی کے لیے لگاتے ہیں، لیکن وہ اس بات پر حیران تھے کہ یہ شخص مادہ منویہ کا انجکشن لگا کر کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق یہ خون کی رگوں میں مادہ منویہ کا انجیکشن لگانے کا پہلا واقعہ تھا۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اس معاملے سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ بغیر جانے بوجھے کسی بھی چیز کا انجیکشن لگانا جسم کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مریض کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ہسپتال میں چند روز علاج کے بعد جب وہ شخص بہتر محسوس کرنے لگا تو اسے گھر بھیج دیا گیا۔