اپنے ذہین بچوں کو کامیاب کیسے بنائیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ایمن خواجہ
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
یہ تھا سال 1968۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونی ورسٹی کے شعبہ سائکومیٹرکس سے منسلک پروفیسر جولین سٹینلے ایک بارہ سالہ ذہین بچے سے ملے جو وہاں کمپیوٹر سائنس پڑھ رہا تھا۔
جوزگ بیٹس نامی وہ بچہ نہایت ذہین تھا لیکن ساتھ میں وہ کافی بور بھی تھا۔ وہ اپنی عمر کے دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے تھا۔
اس بچے سے متاثر ہو کر جولین سٹینلے نے ایک طویل مدتی تحقیق شروع کی جو کہ 45 برسوں پر محیط تھی اور اس کے تحت ذہین بچوں کی پرورش پر تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اور معروف گلوکارہ لیڈی گاگا بھی شامل تھیں۔ .

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور جوزف بیٹس کا کیا ہوا؟ انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کافی کامیابیاں حاصل کیں۔
انھوں نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور پہلے ڈاکٹری مکمل کی، اس کے بعد یونیورسٹی میں بطور استاد کام کیا اور اب 'مصنوعی ذہانت' کے شعبہ میں چند معتبر ترین ناموں میں سے ایک ان کا نام ہے۔
جولین سٹینلے نے جان ہاپکنز یونی ورسٹی میں ایک پروگرام شروع کیا جس کا نام تھا 'سٹڈی آف متیھیمیٹکلی پری کوشیئس یوتھ' (ایس ایم پی وائی) یعنی ان بچوں پر تحقیق جو ریاضی میں بہت قابل ہوں۔اس تحقیق میں اُن پانچ ہزار ذہین و فطین بچوں پر تحقیق کی گئی جو ذہانت کے پیمانے میں ذہین ترین ایک فیصد بچوں میں شامل تھے۔
اس تحقیق کی مدد سے جولین سٹینلے کو چند حیران کن حقائق ملے۔ .

،تصویر کا ذریعہLinkedIn
روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ 'پریکٹس میکس پرفیکٹ' یعنی مسلسل ثابت قدمی سے کوئی کام کرنے میں پختہ مہارت حاصل کی جا سکتی ہے اور یہ کہ آپ کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس کے لیے سخت محنت کریں اور بھرپور توجہ دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق ایس ایم پی وائی کے مطابق بچپن میں مسائل حل کرنے اور درست فیصلے لینے کی صلاحیت اور آگاہی، مستقبل میں کامیابی کے لیے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ مسلسل محنت کرنے کے یا اُس فرد کے مالی اور سماجی حالات اس کامیابی میں اتنے اہم نہیں ہوتے۔
اس کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بچوں پر پڑھائی میں اچھی کارکردگی کے لیے اتنا زور نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس کے دباؤ کی وجہ سے وہ نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنے ذہین بچے کے مستقبل کو مزید سنواریں اور ان کی ذہانت کو بڑھائیں تو اس کے لیے کچھ مفید مشورے درج ذیل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے بچے کو مختلف نوعیت کے تجربات سے گزرنے کے مواقع فراہم کریں
ذہین بچوں کو اکثر اوقات ترغیب دینے کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ زندگی کے مختلف تجربات سے گزرنے کے مواقع فراہم کرنے سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ وہ اصل دنیا میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا سامنابہتر طریقے سے کر سکیں۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اسی طرز زندگی کو اپنائیں جس کی انھیں واقفیت ہوتی ہے اور وہ بالکل نہیں چاہتے کہ نت نئے تجربات سے گزریں۔ .

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے شوق اور صلاحیتوں کو اجاگر کریں
چاہے وہ کوئی کھیل ہو، کوئی موسیقی کا ساز یا فنون لطیفہ میں سے کوئی عمل، بچپن سے ہی بچوں کو کسی مشغلے میں دلچسپی رکھنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا مستقبل میں ان کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ان پر کوئی چیز زبردستی نہیں تھوپنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے بچے کی ذہنی اور نفسیاتی ضروریات کو سمجھیں
کسی بھی چیز کو سیکھنے کے لیے تجسس کا ہونا سب سے ضروری ہوتا ہے۔ بچے سکول شروع ہونے سے پہلے بہت سے سوالات کرتے ہیں اور کئی بار یہ ممکن ہے کہ ان کو جواب دیتے دیتے آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے لیکن یہ اُن کی نشو نما کے لیے ضروری ہے۔ .

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوشش کو داد دیں، صلاحیت کو نہیں
بچوں کی نشونما کے لیے بہت ضروری ہے کہ کسی بھی چیز کے حصول کے لیے ان کی جانب سے کی گئی کوشش کی داد دینی چاہیے بجائے اصل نتیجے کے۔ بچوں کے سیکھنے کے عمل میں خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے رد عمل سے سیھکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ناکامی سے گھبرانا نہیں چاہیے
غلطیاں اور ناکامیاں مستقبل میں کامیابی کی کنجی ہیں اور سیکھنے کے لیے ضروری۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ غلطیوں کو موقع سمجھنا چاہیے تاکہ بچے ان سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بچوں پر کوئی چٹ یا لیبل نہ لگائیں
بچوں پر لیبل لگانے سے ایسا ہو سکتا ہے کہ دوسرے بچے اس پر جملے کسیں اور مذاق اڑائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اساتذہ کے ساتھ مل کر بچے کی ضروریات کے بارے میں بات کریں
ذہین بچوں کو اکثر زیادہ مشکلات سے بھرپور سوالات چاہیے ہوتے ہیں تاکہ ان کے ذہنی نشو نما میں اضافہ ہو اور اس کے لیے ان کو زیادہ مدد کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے یہ اہم ہے کہ اساتذہ کے ساتھ اس بارے میں مشورہ کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بچوں کی صلاحیتوں کی جانچ کرائیں
بچوں کی صلاحیتوں کو جانچنا ضروری ہے جس کی مدد سے یہ بات ابھر کر سامنے آسکتی ہے کہ آیا انھیں کسی قسم کی کوئی ذہنی یا کوئی اور بیماری تو نہیں ہے یا وہ نفسیاتی یا سماجی مسائل کا سامنا تو نہیں کر رہے۔ .








