ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کتنی دیر سونا ضروری ہے؟

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ایوا اونٹیویروس
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

آپ نے کتنے لوگوں کو اپنی کم سونے کی عادت کے بارے فخریہ طور پر کہتے سنا ہو گا مگر نیند کی کمی ہمارے دماغ اور جسم کو حیرت انگیز طرح سے متاثر کر سکتی ہے۔

یہاں تک کہ کم سونے والوں کے بارے میں جان کر آپ کو ان کے فیصلوں اور معقولیت پر شک گزرنے لگے گا۔

پروفیسر میتھیو واکر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں نفسیات اور علم الاعصاب کے استاد ہیں۔

وہ 'ہم کیوں سوتے ہیں' نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ یہ کتاب ممکنہ طور پرآپ کی زندگی بدلنے (عمر بڑھانے) کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کے خیال میں لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو شواہد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ایسے لوگ نیند پوری نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم اپنی جسمانی ضروریات کو زیادہ دیر تک نظرانداز نہیں کر سکتے۔ نیند کا پورا کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو نتیجہ طبعیت کی خرابی اور امراض کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

پروفیسر میتھیو واکر کا یہ مضمون نیند کی اہمیت اور صحت افزا طرز زندگی کے بارے میں ہے۔

نیند کیوں ضروری ہے؟

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاکھوںمریضوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند اور عمر کا براہِ راست تعلق ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

لہٰذا اگر آپ زیادہ جینا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو نیند پوری کرنے کے لیے جو بن پڑے کریں۔

نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے۔

درحقیقت نیند کے اتنے زیادہ فائدے ہیں کہ پروفیسر واکر نے ڈاکٹروں کو قائل کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو نیند بطور علاج تجویز کریں۔

نیند کے لاتعداد فائدے ہیں۔ ذہن اور جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جو کم نیند کی وجہ سے بری طرح متاثر نہ ہوتا ہو مگر نیند قدرتی ہونی چاہیے کیونکہ نیند کی گولی سے دوسرے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔

نوجوان لڑکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کم خوابی کے ذہن اور جسم پر اثرات

ترقی یافتہ ممالک میں موت کا سبب بننے والے تقریباً تمام امراض کا تعلق کسی نہ کسی طور نیند کی کمی سے ہے۔

ان میں الزائمر یا بھولنے کی بیماری، کینسر، امراضِ قلب، موٹاپا، ذیابیطس، ڈپریشن، ذہنی پریشانی اور خودکشی کا رحجان شامل ہیں۔

تمام جسمانی اور ذہنی افعال کی ٹھیک طور پر انجام دہی کے لیے نیند ضروری ہے۔

کیونکہ ہمارے جسم اور دماغ میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت نیند کے دوران ہوتی ہے اور ہم تازہ دم ہو کر بیدار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر نیند پوری نہ ہو تو مرمت بھی نامکمل رہتی ہے۔

50 سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں کہ ’نیند کے فائدے کیا ہیں' بلکہ یہ ہے کہ 'کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا'۔

اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کتنی دیر سونا کافی ہے؟

مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹے۔

سات گھنٹے سے کم نیند جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور بیماریوں کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

20 گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثر انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔

نیند کی کمی کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی نشہ میں دھت شخص خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔مگر آپ جانتے ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

چینی شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گہری نیند کیوں نہیں آتی؟

گذشتہ 100 برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اب لوگوں کو گہری نیند نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ خواب بھی نہیں دیکھ پاتے۔ حالانکہ خواب کا آنا ہماری تخلیقی صلاحیت اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔

(گہری نیند کو طب کی اصطلاح میں ’آر ای ایم سلیپ‘ یا ریپِڈ آئی موومنٹ سلیپ کہتے ہیں۔ یعنی وہ نیند جس میں آنکھیں گاہے گاہے تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور اچھے خواب آتے ہیں۔)

بالفاظِ دیگر گہری نیند یا آر ای ایم ہمارے لیے جذباتی سطح پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہے مگر کم نیند کی کئی وجوہات ہیں۔

اہمیت سے ناواقفیت

اگرچہ سائنسدانوں کو نیند کی اہمیت کا احساس ہے لیکن اب تک انھوں نے اس کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

زیادہ تر لوگوں کو اس کی اہمیت کا ادراک نہیں اس لیے وہ اس کے بارے میں زیادہ سوچتے ہی نہیں۔

زندگی کی رفتار

عام طور پر ہم کام زیادہ کرتے ہیں اور پھر سفر میں بھی خاصا وقت صرف ہوجاتا ہے۔ ہم صبح جلدی نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔

پھر ہم اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ نیند کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سوتا ہوا بچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیند کے بارے میں تصورات اور رویے

ایک بڑا مسئلہ نیند کے بارے میں ہمارا تصور ہے۔ اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔

کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشو ونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مگر عمر کے بڑھنے کے ساتھ نیند کے بارے میں ہمارا رویہ بدلنے لگتا ہے۔ بلکہ زیادہ سونے والوں کی سرزنش کی جاتی ہے۔

جوڑا کیمپنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرد و پیش

ہم رات کی تاریکی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

ہمیں اچھی اور صحت افزا نیند کے لیے ایک ہارمون یا کیمیائی مادے ’میلاٹونِن‘ کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارا جسم صرف تاریکی میں ہی پیدا کرتا ہے۔

بد قسمتی سے صنعتی ترقی کے اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ اب ہم مسلسل روشنی میں نہائے رہتے ہیں۔

یہ ایل ای ڈی سکرینز کے ساتھ بدتر ہو جاتا ہے کیونکہ نیلے رنگ کی روشنی میلاٹونن کی پیداوار کو اور کم کر دیتی ہے۔

نوجوان خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا نقصان کا ازالہ ممکن ہے؟

ہاں اور نہیں: گزرا ہوا وقت تو واپس نہیں آ سکتا مگر اچھی تبدیلی کسی وقت بھی لائی جا سکتی ہے۔ یہ خیال کے آپ کھوئی ہوئی نیند بعد میں پوری کر سکتے ہیں غلط ہے۔

اس لیے ہفتے بھر کم سونا اور چھٹی والے دن حد سے زیادہ سونا کھوئی ہوئی نیند کا مداوا کبھی نہیں کر سکتا۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی لائی جائے اور نیند کو پورا وقت دیا جائے۔ اس کا فائدہ فوری ہوگا۔ اس کے شواہد موجود ہیں۔

مثلاً ایک گروپ کے (جس میں نیند کی خرابی کی وجہ سے زیادہ خراٹے لینے اور سانس میں تکلیف کی شکایت تھی) مطالعے سے پتہ چلا کہ جن لوگوں نے اپنی نیند پوری نہیں کی ان کی شکایات برقرار رہیں۔ البتہ جن لوگوں نے اپنی عادات بدل کر گہری نیند سونا شروع کیا انھیں اس کا فائدہ ہوا۔

مرد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا نیند کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے؟

کاش ایسا ہو سکتا!

ویسے چربی کے معاملے میں ایسا ہوتا ہے۔ جب اچھی اور زیادہ خوراک میسر ہو تو وہ ہمارے جسم میں ذخیرہ ہو جاتی ہے اور خوراک کی کمی کی صورت میں یہ ہی چربی گھل کر ہمیں توانائی فراہم کرتی ہے۔

مگر نیند کے لیے ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہ مسئلہ جدید دور کا ہے۔ انسان کے ارتقائی عمل میں یہ موجود ہی نہیں تھا۔ اس لیے نہ ہی نیند کی قضا ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ پیشگی ادا کی جا سکتی ہے۔