کینسر کے مریضوں کے لیے سر منڈوانے کی مہم

والدین، میاں بیوی اور دیگر چاہنے والوں نے کینسر میں مبتلا عزیزوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے اپنے سر منڈوا لیے۔ یہ مہم جسے ’بریو دی شیو‘ کا نام دیا گیا ہے کینسر میں مبتلا افراد کو مدد فراہم کرنے والے پروگرام میکملن کینسر سپورٹ کا حصہ ہے۔

سیرن چیسٹر

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنپانچ سالہ سیرن چیسٹر، چیشائر کی رہنے والی ہیں۔ انہیں کینسر کی ایک ایسی قسم ہے جو بچوں میں پایا جاتا ہے اور اسے ’وِلمس ٹیومر‘ کہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے گردے پر انناس کے سائز جتنا بڑا ٹیومر ہے۔
سیرن

،تصویر کا ذریعہMACMILLIAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنسیرن کی والدہ جینی ڈیورل نے ایک صبح ناشتے کے وقت اپنی بیٹی کی پسلیوں کے نیچے ایک گلٹی محسوس کی۔
کیتھ ووڈ

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنکیتھ ووڈ ایک گرافک ڈیزائنر ہیں انھوں نے اپنی لمبی داڑھی اور سر کے بال اپنی بیوی ایما کی یاد میں منڈوا دیے ہیں۔ ایما کی عمر 36 برس تھی اور گذشتہ برس کینسر کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
ایما اور کیتھ

،تصویر کا ذریعہJOHN MARSH

،تصویر کا کیپشنیہ ایما اور کیتھ کی شادی کی تصویر ہے۔ ان کے دماغ میں ٹیومر کی تشخیص سنہ 2011 میں ہوئی تھی۔ کیتھ کہتے ہیں کہ ’انہیں بال کھو دینے سے نفرت تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے ریڈیو تیھرپی بھی شادی کے بعد کروائی کیوں کہ وہ پریشان تھیں کہ وہ شادی کے دن کیسی لگیں گی۔ لیکن مجھے وہ ہمیشہ خوبصورت لگتی تھیں۔‘
وکٹوریہ

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشن43 سالہ وکٹوریہ ہینڈرسن نے اپنا سر اپنے شوہر مارک کے لیے منڈوایا ہے جن کی خوراک کی نالی میں اپریل میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ انھیں اس وقت اس مرض کا علم ہوا جنب وہ خوراک کو نگلنے میں دقت محسوس کرنے لگے تھے۔
وکٹوریہ

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنوکٹوریہ کا تعلق لیسٹر شائر کے علاقے ہاربوروگ سے ہے۔ گذشتہ برس انھوں نے اپنے 81 سالہ والد کو بھی کھو دیا تھا جو پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے۔ ’میں نے اپنے والد کو کھو دیا ہے یہ بہت خوفناک مرض ہے اور چھ ماہ بعد مجھے یہ بدترین خبر ملی کہ میرے شوہر کو بھی کینسر ہے۔ میں یہ اس لیے کر رہی ہوں تاکہ میں زیادہ خاندانوں کی حمایت کر کے ان کی مدد کر سکوں۔‘
لوسی

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنمشرقی لندن کے علاقے شورڈچ کی رہائشی لوسی بارنیٹ نے اپنے لمبے بال منڈوا دیے ہیں اپنے دونوں دادا اور نانا کے لیے جو اسی مرض کا شکار ہو کر دنیا سے چلے گئے تھے۔
لوسی

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنلوسی نے اس فوٹو شوٹ میں حصہ لیا۔ ’بریو دی شیو‘ مہم میں ہزاروں افراد نے اپنے سر ان لوگوں کی مدد اور یاد میں منڈوائے ہیں جنہیں کینسر ہے اور اس طرح اب تک لاکھوں پاؤنڈ جمع ہو چکے ہیں۔
کیرولائن

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنیہ 50 سالہ کیرولائن پرائس ہیں جو گلیمورگن کے علاقے مرتھیر ٹائڈفل کی رہنے والی ہیں۔ کیرولائن نے کینسر کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارنے والے اپہنے دوستوں اور مریضوں کی یاد میں سر منڈوایا ہے۔
ہیتھر پیڈیسن

،تصویر کا ذریعہSUPPLIED

،تصویر کا کیپشن30 سالہ ہیتھر پیڈیسن، لِنکن شائر کی رہنے والی ہیں اور انھوں نے بھی ’بریو دی شیو‘ مہم میں حصہ لیا۔ ان کے تین رشتے داروں کو کینسر ہے۔
ہیتھر

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنہیتھر کی آنٹی شیلا موری کا انتقال چند روز قبل ہی 56 برس کی عمر میں ہوا۔ انھیں چھاتی کا کینسر تھا۔
ٹین ووڈ ورڈ

،تصویر کا ذریعہMACMILLAN CANCER SUPPORT/RANKIN

،تصویر کا کیپشنٹیڈ ووڈ ورڈ کی عمر 28 برس ہے اور وہ جنوب مشرقی لندن کے علاقے پلمسٹیڈ کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنا سر اپنی بہن ہانا کے لیے منڈوایا ہے جو آٹھ برس قبل کینسر کی ایک ایسی قسم میں مبتلا ہو گئی تھیں جو لاعلاج ہے۔
Ted and Hannah

،تصویر کا ذریعہMacmillan Cancer Support/Rankin

،تصویر کا کیپشناب ہانا کی عمر 26 برس ہے۔ وہ روز دوا لیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے مرض کو شکست دی ہے۔