آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نایاب جہازی کیڑے کے نمونے کی دریافت
سائنسدانوں نے فلپائن میں پہلی بار زندہ نادر جہازی کیڑے کا نمونہ پایا ہے۔ یہ سمندر میں رہنے والا ایک کیڑہ ہے جو کہ لکڑی میں سوراخ کرکے جہاز میں آ جاتا ہے اور وہاں ڈیرہ جما لیتا ہے۔
اس کیڑے کی تفصیلات سائنس کے جریدے میں شائع ہوئی ہے اور یہ پانچ فیٹ لمبا اور چھ سینٹی میٹر چوڑا ہے۔
وہ ایک سخت خول میں اپنے زندگی گذار رہا تھا جبکہ اس کا سر کیچڑ میں دھنسا ہوا تھا جہاں سے وہ غذا حاصل کر رہا تھا۔
ہر چند کہ اس کے وجود کے بارے میں سالوں سے لوگوں کو علم تھا لیکن اس کے زندہ نمونے پر ابھی تک کوئی مطالعہ نہیں ہو سکا تھا۔
اس کا اصل نام بیویلو ہے اور یہ صدفیہ یا سیپ کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ 'نادر اور پراسرار نسل' کا بیویلو انسانی معلومات میں اب تک سب سے بڑا جہازی کیڑا ہے۔
امریکہ، فرانس اور فلپائن کے سائنسدانوں کی ٹیم کو خلیج منڈاناؤ میں کو یہ کیڑا ملا۔ اس کے ساتھ انھوں نے پانچ دیوقامت کیڑے بھی پکڑے۔
ایک ویڈیو میں ایک سخت خول کو کاٹ کر اس کیڑے کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور ٹیوب کی طرح کے خول سے ایک کالے رنگ کی مخلوق پھسل کر باہر آتی نظر آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ جہازی کیڑے کے خاندان سے تعلق رکھتاہے اور عام طور پر یہ سائز میں بہت چھوٹا ہوتا ہے جو کہ لکڑی میں سوراخ کرکے رہتا ہے اور وہیں سے غذا حاصل کرتا ہے۔
ملنے والا یہ کیڑہ نہ صرف اپنی جسامت کے لحاظ سے نادر ہے بلکہ اپنی خوراک کی وجہ سے بھی کیونکہ جہاز کے بجائے کیچڑ اس کی خوراک تھی۔
اس طرح دوسرے جہازی کیڑے کے مقابلے اس کے ہاضمے کا نظام بہت چھوٹا تھا۔
یہ کیڑا ایک مادے کے اخراج سے اپنا خول خود ہی تیار کرتا ہے جو کہ کیلشیئم کاربونیٹ کا بنا ہوتا ہے۔
یہ اپنے سر کو دھکنے کے لیے ایک سخت غلاف بھی تیار کرتا ہے۔