سکول ٹیچر کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 23:13 GMT 04:13 PST

پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور میں ایک سکول کی خاتون استاد اور سکول کے مالک کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

لاہور کے ایس پی سٹی ملتان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کریم پارک میں واقع فاروقی سکول کی ایک برانچ میں تعینات ایک خاتون استاد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک طالبہ کو توہین آمیز کلمات لکھ کر توہین مذہب کی۔

اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں سے ایک کے والد فیاض احمد نے بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کو بتایا کہ سکول کے مالک عاصم فاروقی کی عمر ستر برس کے قریب ہے اور وہ گذشتہ تینتیس برس سے یہ سکول اپنی اہلیہ کے ہمراہ چلا رہے ہیں۔

ان کے مطابق سکول کے مالک عاصم فاروقی کو جب سکول میں موجود استاد کی جانب سے کی گئی مبینہ گستاخی کا پتہ چلا تو انہوں نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ استاد کو فارغ کردیا۔

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>